The news is by your side.

Advertisement

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی استعفے کی پیشکش

کراچی:آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو عہدے سے ہٹانے کےکیس کی سماعت کے دوران داخل کردہ جواب میں انہوں نے استعفیٰ دینے کی پیشکش کرکے اپنی خدمات وفاق کو واپس کرنے کی استدعا کردی۔

تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ اللہ ڈینو خواجہ نے سندھ ہائی کورٹ میں حکم امتناع ختم کرنے کی ایڈووکیٹ جنرل کی درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کو اپنی خدمات وفاق کو واپس لوٹانے کی پیشکش کی۔

اے ڈی خواجہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ چھ ماہ اسے انہیں کام نہیں کرنے دیا جارہا اور اس طرح کی صورتحال میں پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانا ممکن نہیں ہے۔

اے ڈی خواجہ نے اپنے وکیل شہاب اوستو کے ذریعے داخل کردہ جواب میں موقف اختیار کیا کہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظرپولیس کے محکمے اورصوبے کے وسیع تر مفاد میں بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں۔


مسئلہ اختیارات کا ہے، آئی جی سندھ ہوں کلرک نہیں، اے ڈی خواجہ


عدالت نے اے ڈی خواجہ کے جواب اور اے جی سندھ کے دلائل سننے کے بعد اے ڈی خواجہ کو کام جاری کرنے کی ہدایت کے بعد سماعت 18 مئی تک ملتوی کردی۔

دوسری جانب سماعت کے دوران اے جی سندھ کا کہنا تھا کہ مشرف کے مارشل لاء میں قانون کےبنیادی مسائل سےانحراف کیاگیا، سپریم کورٹ کے حکم سے انحراف کرکےکئی آرڈیننس اورقوانین نافذکئےگئے اورپولیس آرڈر 2002بھی اسی سلسلےکی ایک کڑی تھی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قوانین صوبائی خودمختاری کونظر انداز کرکے بنائے گئے، طےشدہ اصولوں ،قوانین کےتحت پولیس صوبائی معاملہ ہے اورصرف پارلیمنٹ ہی قانون میں ترمیم کرسکتی ہے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں