جمعہ, اپریل 17, 2026
اشتہار

ادا جعفری: خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے!

اشتہار

حیرت انگیز

اگر جدید ادب میں شاعری کے معماروں کا ذکر کیا جائے تو ادا جعفری کا نام ضرور لیا جائے گا جنھیں اکثر اردو شاعری کی ‘خاتونِ اوّل’ بھی کہا جاتا ہے۔ ادا جعفری ان شاعرات میں سے ایک تھیں جن کا کلام شعورِ زیست کے ساتھ دل آویزیٔ فن کی ایک مثال ہے۔ آج اردو کی منفرد اور خوش گو شاعرہ ادا جعفری کی برسی ہے۔

ان کا اصل نام عزیز جہاں تھا۔ وہ 1924ء میں بدایوں کے اک خوش حال گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ تین برس کی تھیں جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ بعد کا دور ننھیال میں گزرا۔ ابتدائی تعلیم کے ساتھ اردو فارسی اور انگریزی زبان بھی سیکھی۔ لیکن باقاعدہ کالج نہیں جاسکیں اور گھر پر ہی پڑھنے لکھنے کے ساتھ مطالعہ کے شوق کو اپنائے رکھا۔ نو سال کی عمر میں انھوں نے پہلا شعر کہا۔ ادا جعفری کی زندگی میں کتابیں اور مظاہر فطرت سے لگاؤ بچپن ہی سے شامل رہا تھا اور اسی محبت نے ان کے اندر چھپی ہوئی شاعرہ کو بیدار کیا تھا۔ ان کی شادی 1947ء میں نور الحسن جعفری سے انجام پائی۔ ادا جعفری اختر شیرانی اور اثر لکھنوی سے اصلاح لیتی رہیں۔ ان کے متعدد شعری مجموعہ سامنے آئے جن میں شہرِ درد کو 1968ء میں آدم جی ایوارڈ دیا گیا۔ اس کے علاوہ ’’جو رہی سو بے خبری رہی ‘‘ کے عنوان سے انھوں نے خود نوشت سوانح عمری بھی 1995ء میں لکھی۔ 1991ء میں حکومت پاکستان نے ادا جعفری کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغائے امتیاز سے نوازا تھا۔

بلاشبہ ادا جعفری نے جس خوش سلیقگی سے اپنے خیالات کو غزل اور نظم میں ڈھالا، وہ ان کی شناخت بن گیا۔ ادا جعفری نے جس دور میں شاعری سے ناتا جوڑا، وہ ترقی پسند تحریک کے عروج کا دور تھا۔ ایک طرف دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی ہنگامہ خیز فضا تھی جس نے دنیا کو متاثر کیا تھا اور دوسری جانب ہندوستان میں تحریکِ آزادی زور پکڑ چکی تھی۔ اس پُر آشوب ماحول میں ادا جعفری نے غزل اور نظم کو وسیلۂ اظہار بنایا۔ انھوں نے مقبول جاپانی صنفِ سخن ہائیکو میں بھی طبع آزمائی کی اور ایک مجموعۂ کلام ”ساز سخن“ کے نام سے شائع ہوا۔ بعد کے برسوں میں ادبی حلقوں اور ادا جعفری کی شاعری کے مداحوں تک ’’حرفِ شناسائی‘‘، ”ساز سخن بہانہ ہے‘‘، ”سفر باقی ہے‘‘، ”شہر در‘‘، ’’غزالاں تم تو واقف ہو‘‘ اور ’’میں ساز ڈھونڈتی رہی‘‘ جیسے شعری مجموعے پہنچے۔

ناقدین نے ادا جعفری کو اردو شاعرات میں شعور و کیفیت کے ایک نئے سلسلہ کی پیش رو لکھا ہے۔ ایک ایسی شاعرہ جس نے نسائی جذبات اور ایک مخصوص فضا سے آگے نکل کر عام موضوعات اور لوگوں کے مسائل کو بھی اپنے اشعار میں سمویا۔ ادا جعفری کی ابتدائی غزلیں اور نظمیں 1940ء کے آس پاس اختر شیرانی کے رسالہ "رومان” کے علاوہ اس وقت کے معیاری ادبی رسالوں "شاہکار” اور "ادب لطیف” وغیرہ میں شائع ہونے لگی تھیں اور ادبی حلقوں میں ان کی پہچان بن چکی تھی۔ شادی کے بعد وہ پاکستان چلی آئیں اور یہاں بھی ان کا تخلیقی سفر جاری رہا۔ ان کے شعری مجموعوں کے علاوہ ایک خودنوشت سوانح بھی شایع ہوئی۔ ادا جعفری نے قدیم اردو شعراء کے حالات بھی قلم بند کیے ہیں۔

2014ء میں آج ہی کے روز ادا جعفری انتقال کر گئی تھیں۔ یہاں ہم ان کی وہ غزل نقل کررہے ہیں جسے استاد امانت علی نے گایا تھا اور آج بھی اسے بہت ذوق و شوق سے سنا جاتا ہے۔

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
آئے تو سہی بر سرِ الزام ہی آئے
حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دلگیر ہیں غنچے
خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے
لمحاتِ مسرت ہیں تصور سے گریزاں
یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے
تاروں سے سجا لیں گے رہِ شہرِ تمنّا
مقدور نہیں صبح چلو شام ہی آئے
کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے
جس رہ سے چلے تیرے در و بام ہی آئے
تھک ہار کے بیٹھے ہیں سرِ کوئے تمنا
کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے
باقی نہ رہے ساکھ اداؔ دشت جنوں کی
دل میں اگر اندیشۂ انجام ہی آئے

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں