The news is by your side.

Advertisement

جیسے کو تیسا…

ایک سوداگر کچھ دنوں کے لیے سفر پر جانے لگا تو اس نے سو (100) مَن لوہا اپنے ایک دوست کے گھر امانت کے طور پر رکھوا دیا تاکہ ضرورت پڑے تو اسے بیچ کر روپیہ حاصل کرسکے۔

وہ سفر سے لوٹا تو اپنے دوست کے پاس آیا اور اس سے لوہا طلب کیا۔ دوست نے کہا۔ ’’تمہارا لوہا میں نے ایک کوٹھری میں بند کر کے رکھ دیا تھا، مگر ایک دن کھول کے دیکھا تو چوہوں نے سب کھا لیا تھا۔‘‘

سودا گر نے کہا۔ ’’تم ٹھیک کہتے ہو۔ دراصل چوہوں کو لوہا بہت پسند ہے۔ وہ اس کی لذّت پر جان دیتے ہیں۔ ضرور کھا لیا ہوگا کیوں کہ ان کے دانت اس قسم کی ملائم اور چکنی چیز پر خوب چلتے ہیں۔‘‘

یہ بات سن کر اس کا دوست بہت خوش ہوا کہ چلو اتنا سارا لوہا بغیر کسی جھگڑے کے ہضم ہوگیا۔ اسے سوداگر کی بے وقوفی پر بڑی ہنسی آئی۔ سوچا کہ اس خوشی میں اس کی مہمان داری ضرور کرنی چاہیے تاکہ دل میں کوئی اندیشہ باقی نہ رہے۔ اس نے سوداگر سے اصرار کیا کہ وہ آج کے دن اس کا مہمان رہے۔ سوداگر نے کہا۔ ’’آج مجھے کچھ ضروری کام ہے۔ کل صبح حاضر ہوں گا۔‘‘

یہ کہہ کر وہ سوداگر رخصت ہوا اور باہر آکر اس کے لڑکے کو ساتھ لے جاکر اپنے گھر میں چھپا دیا۔ صبح صبح حسبِ وعدہ اس کے گھر دعوت کھانے پہنچا۔ میزبان کو پریشان حال پایا۔ وہ معذرت کرتے ہوئے بولا۔ ’’میرا لڑکا کل سے گم ہوگیا ہے اور تمام شہر میں منادی کرادی ہے، لیکن اب تک اس کا سراغ نہیں مل سکا، اس لیے میرے حواس بجا نہیں ہیں۔ میں بے حد پریشان ہوں۔ معاف کرنا میں تمہاری دعوت نہیں کرسکتا۔‘‘

سوداگر نے کہا۔ ’’کوئی بات نہیں، لیکن ہاں یاد آیا۔ کل جب میں تمہارے گھر سے باہر نکلا تھا تو میں نے بالکل ویسا ہی لڑکا جیسا حلیہ تم نے بیان کیا ہے، دیکھا تھا۔ لیکن اسے ایک باز اپنے پنجوں میں دبوچے ہوا میں اڑائے لیے جا رہا تھا۔‘‘

میزبان خفا ہوا اور بولا۔ ’’کیوں خواہ مخواہ جھوٹ بولتے ہو۔ اور ایسی ناممکن بات کہتے ہو۔ کیا ایک کم زور باز ایک بیس سیر کے موٹے تازے لڑکے اٹھا کر ہوا میں اٹھا کر اڑا سکتا ہے؟‘‘

سوداگر ہنسا اور بولا۔ ’’اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟ جس شہر میں چوہے سو مَن لوہا کھا سکتے ہیں، کیا وہاں ایک باز بیس سیر کے لڑکے کو اٹھا کر نہیں اڑ سکتا؟ اس شہر کی آب و ہوا میں یہی تاثیر ہے۔‘‘

وہ شخص سمجھ گیا کہ یہ کام سوداگر کا ہے۔ فوراً بولا۔ ’’فکر نہ کرو۔ تمہارا لوہا چوہوں نے نہیں کھایا۔‘‘

سوداگر نے جواب دیا۔ ’’تم بھی پریشان مت ہو۔ تمہارے بیٹے کو باز نہیں لے گیا۔‘‘

آخر اس نے اس کا لوہا واپس کر دیا اور سوداگر نے اس کا لڑکا۔

(ہندوستان کی افسانہ نگار، شاعرہ، محقق اور مترجم ڈاکٹر رفیعہ شبنم عابدی کی بچّوں کے لیے لکھی گئی ایک کہانی)

Comments

یہ بھی پڑھیں