The news is by your side.

Advertisement

علّامہ اقبال اور پیارے صاحب رشید لکھنوی کا ایک دل چسپ واقعہ

رفتگاں کی بات کی جائے تو جہانِ ادب کی نام وَر شخصیات اور مشاہیر نے آپس میں ملاقات کے دوران کسی علمی و ادبی موضوع پر گفتگو اور بحث کرتے ہوئے شائستگی اور احترام کو ملحوظ رکھا۔

ایک زمانہ تھا جب کسی ہم عصر کے فن و تخلیق پر تبصرہ کیا جاتا تو تعریف اور سراہنے میں بخل سے کام نہیں لیا جاتا تھا، لیکن اسی طرح اصلاح و بہتری کی غرض سے تنقید بھی کی جاتی تھی۔ ایسی ہی مجلس میں اکثر احباب میں سے کوئی شوخی اور ظرافت پر آمادہ ہوجاتا تو محفل زعفران زار ہوجاتی۔

ادبی تذکروں میں مشاہیر سے منسوب ایسے ہی مختلف دل چسپ واقعات اور لطائف بھی ہمیں پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ایک واقعہ شاعرِ مشرق علاّمہ اقبال سے منسوب ہے، جو اکثر نقل کیا جاتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔

ایک مرتبہ علامہ اقبال تعلیمی کانفرنس میں شرکت کی غرض سے لکھنؤ گئے۔ اس سفر کے دوران انھیں اردو کے مشہور فکشن رائٹر سیّد سجّاد حیدر یلدرم کے ساتھ تانگے میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔

دونوں حضرات پیارے صاحب رشید لکھنوی کے گھر پہنچے۔ دورانِ گفتگو اقبال نے اپنی ایک مشہور غزل انھیں سنائی۔ اقبال کی اس غزل کو پیارے صاحب رشید بڑی خاموشی سے سنتے رہے اور کسی بھی شعر پر داد نہ دی۔ جب وہ اپنی پوری غزل سنا چکے تو پیارے صاحب نے فرمایا،

”اب کوئی غزل اردو میں بھی سنا دیجیے۔ ” اس واقعے کو علّامہ اقبال اپنے دوستوں میں ہنس ہنس کے بیان کرتے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں