چینی قونصلیٹ حملے میں افغان سرزمین استعمال ہوئی، را بھی ملوث ہے: ایڈیشنل آئی جی -
The news is by your side.

Advertisement

چینی قونصلیٹ حملے میں افغان سرزمین استعمال ہوئی، را بھی ملوث ہے: ایڈیشنل آئی جی

کراچی: ایڈیشنل انسپکٹر جنرل امیر شیخ کا کہنا ہے کہ چینی قونصلیٹ حملے کے ملزمان اور سہولت کار گرفتار کرلیے ہیں، منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی جبکہ بھارت نے حملے کو اسپانسر کیا۔

تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل انسپکٹر جنرل امیر شیخ نے ڈی آئی جی ایسٹ عامر فاروقی اور ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کے ساتھ پریس کانفرنس کی۔

ایڈیشنل آئی جی کا کہنا تھا کہ چینی قونصلیٹ حملے میں کئی ملزمان کو گرفتار کرلیا، واقعے کی تحقیقات میں بہت سے نام سامنے آئے، جنہیں گرفتار کرلیا۔ چینی قونصلیٹ پر حملے کے لیے اسلحہ بلوچستان سے ریلوے کے ذریعے لایا گیا۔

منصوبہ بندی کب، کہاں اور کیسے ہوئی؟


انہوں نے کہا کہ کراچی پہنچنے کے بعد اسلحہ بلدیہ ٹاؤن میں ایک گھر میں رکھا گیا، گاڑی اوپن لیٹر پر تھی، چینی قونصلیٹ پر حملے کا ماسٹر پلان افغانستان میں بنا۔ حملے کا ماسٹر مائنڈ اسلم عرف اچھو افغانستان میں مارا جا چکا ہے۔

ایڈیشنل آئی جی کا کہنا تھا کہ (بلوچستان لبریشن آرمی) بی ایل اے کو لیڈ آج کل بشیر زیب نامی دہشت گرد کر رہا ہے، اسلم عرف اچھو کے علاوہ تمام ملزمان گرفتار ہیں۔ واقعے میں افغان سرزمین استعمال ہوئی، را بھی ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا مقصد تھا چینی قونصلیٹ عملے کو یرغمال بنائیں، بروقت کارروائی کی وجہ سے دہشت گردوں کا منصوبہ ناکام رہا۔ بلدیہ میں دہشت گردوں کو سہولت دینے کے لیے گھر اسلم کے نام پر لیا گیا، گھر کے حصول کے لیے عارف نام استعمال کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ واقعے والے دن حملہ آور بلدیہ ٹاؤن میں عارف کے گھر سے آئے تھے، بی ایل اے کے کراچی اور بلوچستان کے لوگ اس میں ملوث تھے۔ چینی قونصلیٹ پر حملے کے ذریعے سی پیک کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ تھا، دہشت گردوں کا عالمی سطح پر پیغام دینا تھا کہ پاکستان غیر محفوظ ہے۔

اے آئی جی کا کہنا تھا کہ ریلوے کے ذریعے اسلحہ بھیجا گیا، ریلوے حکام کو خط لکھ رہے ہیں کہ اسلحہ کی ترسیل روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ بروقت ایکشن نہ لیا جاتا تو کراچی میں بڑا سانحہ ہوسکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے اپنے نام مختلف رکھ کر جعلی شناختی کارڈ بنا رکھے تھے، ایک شخص نے اپنے 2، 2 شناختی کارڈ بنا رکھے تھے۔

اسلم اچھو زندہ ہے یا مارا گیا؟


ان کا مزید کہنا تھا کہ سلم اچھو نے پہلے بھی اپنی موت کا ڈرامہ رچایا تھا، جب تک اسلم اچھو کی لاش نہیں ملتی یقین نہیں کر سکتے۔ امان اللہ اسلم اچھو کا رشتے دار ہے، جس کو حملے کے لیے استعمال کیا گیا۔

امیر شیخ نے کہا کہ واقعے میں کسی سیاسی پارٹی کا کنکشن نہیں ملا، واقعہ بی ایل اے نے سر انجام دیا، حملہ بھارتی اسپانسرڈ واقعہ تھا۔ جعلی اور 2، 2 شناختی کارڈ سے متعلق ایف آئی اے کو خط لکھ رہے ہیں، کالعدم بی ایل اے کو معمولی سمجھا جا رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن کی باتیں پوری دنیا میں ہو رہی تھیں، کراچی سمیت پاکستان کا امن دشمن کو کھٹکتا ہے۔ کراچی میں ہونے والے بڑے ایونٹس پر بھارت میں پریشانی ہو رہی ہے۔ حملہ پاکستان اور چین کی دوستی میں دراڑ ڈالنے کی ناکام کوشش تھی۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں کا کراچی میں ایک اور دہشت گردی کا بھی منصوبہ تھا، دوسرے منصوبے سے پہلے دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔ دہشت گردوں کا ایک ساتھی ابھی گرفتار نہیں ہوا اسے بھی پکڑ لیں گے، دشمن کی کوشش ہے پاکستان امن والے فیز میں داخل نہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ علی رضا عابدی کیس میں 2، 3 ڈائریکشن پر تفتیش جاری ہے، چینی قونصلیٹ پر حملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کو 20 لاکھ انعام دیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں