The news is by your side.

Advertisement

پہچانو میں‌ کون! عادل اسیر دہلوی کی دل چسپ منظوم پہیلی

عادل اسیر دہلوی کا نام ہندوستان کے ان تخلیق کاروں‌ میں‌ اہم اور نمایاں ہے جنھوں نے بچّوں کے ادب کو متنوع موضوعات سے مالا مال کیا اور ان کے لیے سادہ و دل نشین انداز میں نہ صرف کہانیاں لکھیں بلکہ آسان اور عام فہم شاعری بھی کی۔

1959ء میں‌ پیدا ہونے والے عادل اسیر کا تعلق دہلی سے تھا اور وہ اسی نسبت اپنے نام کے ساتھ دہلوی لگاتے تھے۔ 2014ء میں‌ بچّوں‌ کے اس بڑے ادیب اور شاعر نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں‌ موند لی تھیں۔ یہاں ہم ان کی ایک پہیلی (نظم) نقل کررہے ہیں جو بچّوں‌ ہی نہیں‌ بڑوں‌ کو بھی بظاہر چھوٹی سی ایک چیز کی اہمیت اور افادیت بتاتی ہے، مگر انسان کی ایجاد کردہ اور سب کے بہت کام آنے والی یہ چیز ہے کیا؟ جانیے۔

مجھ سے بڑھی ہے علم کی دولت
دیکھنے میں ہوں میں بے قیمت

جاہل کو بے زاری مجھ سے
عالم کی ہے یاری مجھ سے

مجھ میں شیروں جیسی ہمّت
سچّائی ہے میری طاقت

گرچہ لگتا چھوٹا سا ہوں
کام بڑے پَر میں کرتا ہوں

دیکھو تو بے کار ہی سمجھو
لیکن میں انمول ہوں بچّو

تیر نہیں، تلوار نہیں میں
دشمن پر بھی بار نہیں میں

میری طاقت کو کیا جانو
دانا ہو تو تم پہچانو

کام عدالت میں بھی آؤں
پیار محبت میں بھی آؤں

خط لکھنا، پیغام بھی دینا
ساتھ میں سب کا نام بھی دینا

پہچانو تو کون ہوں پیارے
آتا ہوں میں کام تمہارے

(جواب: قلم)

Comments

یہ بھی پڑھیں