جھوٹے الزامات پر یوٹیوبر عادل راجہ نے بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر سے معافی مانگ لی۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں عادل راجہ نے لکھا کہ لندن کی عدالت نے مجھے راشد نصیر کو 50ہزار پاؤنڈ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا اور مجھ پر قانونی اخراجات بھی عائد کیے۔
عادل راجہ نے کہا کہ 14سے 29جون 2022 تک میں نے متعدد ہتک عزت کے الزامات لگائے تو عدالت نے قرار دیا میرے راشد نصیر پر لگائےگئے الزامات جھوٹے تھے، راشد نصیر پر لگائے گئے جھوٹے الزامات کا میں دفاع نہیں کرسکا۔
برطانوی عدالت نے یوٹیوبر عادل راجہ کو سابق فوجی افسر بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کو 50 ہزار پاؤنڈز ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے عادل راجہ کے تمام الزامات کو بے بنیاد اور ہتک آمیز قرار دیا ، فیصلے میں عادل راجہ کو بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کو 50 ہزار پاؤنڈز ہرجانہ اور 3 لاکھ پاؤنڈز عدالتی و وکلا کے اخراجات کی مد میں ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
جج رچرڈ سپئیرمین نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عادل راجہ کے الزامات کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے، ان کی سوشل میڈیا پوسٹس نے سابق فوجی افسر کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔
عدالت نے قرار دیا کہ سوشل میڈیا پر لگائے گئے الزامات سنگین نوعیت کے تھے تاہم آزادیِ اظہار کے نام پر کسی کی عزت و شہرت کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔
عدالت نے ارشد شریف قتل کیس سے متعلق عادل راجہ کے الزامات کو بھی ثبوت سے خالی قرار دے کر مسترد کر دیا اور واضح کیا کہ مقدمے کا تعلق آئی ایس آئی یا فوج سے نہیں بلکہ صرف دو افراد کے درمیان تنازع سے ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ عادل راجہ نے اپنے دفاع میں “عوامی مفاد” کا سہارا لیا، مگر وہ اپنے دعووں کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکے۔
یہ مقدمہ رائل کورٹ آف جسٹس لندن میں زیرِ سماعت تھا، جس کی سماعت 21 جولائی 2025 کو شروع ہوئی تھی، عدالت نے عادل راجہ کی تمام دفاعی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ان کے خلاف فیصلہ سنایا۔
عادل راجہ کوراشد نصیر کو تقریباً 2 کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنا ہوگا، ان کوعدالتی ،وکلا اخراجات کی مد میں مزید 11 کروڑ 30لاکھ روپے ادا کرنا ہوں گے۔


