The news is by your side.

Advertisement

کیا ایڈولف فریڈرک کی موت زیادہ کھانا کھانے سے ہوئی تھی؟

ایک زمانہ تھا جب شاہانِ وقت کا دستر خوان قسم قسم کے پکوان اور عمدہ غذاؤں سے سجا ہوتا تھا۔ بادشاہ اور متعلقین کے سامنے ایک ہی وقت میں‌ کئی کھانے چُنے جاتے جنھیں‌ ماہر طباخ تیّار کرتے تھے۔ میرِ مطبخ یہ خوش ذائقہ اور لذیذ پکوان بادشاہ کی فرمائش اور پسند کے مطابق اپنی نگرانی میں‌ تیّار کرواتا تھا۔

بادشاہوں کی حفاظت کے لیے جہاں ہر وقت پہرے دار ان کے ساتھ رہتے، وہیں کھانا پکانے کے مراحل کی بھی کڑی نگرانی کی جاتی تھی۔ بادشاہ کے نہایت قریبی اور بااعتماد رفقا دسترخوان تک پہنچنے سے پہلے شاہی ملازمین کو ہر ڈش چکھنے کو کہتے اور پھر کچھ کھانا جانوروں کے آگے ڈالتے۔ اس آزمائش سے یہ جاننا مقصود ہوتا کہ کھانا زہر آلود تو نہیں‌ ہے۔ 12 فروری 1717ء کو معمول کے مطابق ایسا ہی انتظام سوئیڈن کے بادشاہ ایڈولف فریڈرک کے لیے بھی کیا گیا تھا۔

قابلِ بھروسا باورچیوں کا تیّار کردہ کھانا آزمائش کے بعد بادشاہ کے لیے میز پر چُنا گیا تھا، جس نے بادشاہ کو اس کی زندگی سے محروم کردیا۔

ایڈولف فریڈرک نے 1710ء میں‌ سوئیڈن کا تخت سنبھالا، اسے ایک کم زور حکم راں‌ کہا جاتا ہے، لیکن وہ بہترین شوہر، اپنی اولاد سے بے حد پیار کرنے اور ان کا خیال رکھنے والا باپ ہی شاہی ملازمین سے اچھا برتاؤ کرنے کے لیے بھی مشہور تھا۔ وہ مہمان نواز اور عوام دوست بادشاہ تھا جس کی ناگہانی موت سے خاص طور پر اس کے رفقا اور شاہی خدمت گاروں کو دلی رنج اور صدمہ پہنچا۔

اس روز میز پر انواع و اقسام کے کھانے موجود تھے۔ بادشاہ نے جھینگا، مچھلی کی مختلف ڈشیں، مقامی اچار اور جرمنی کی ایک خاص نمکین ڈش کے علاوہ بھنا ہوا گوشت کھایا اور اس کی پسندیدہ میٹھی ڈش جسے مقامی طور پر مختلف طرح سے بنایا جاتا ہے، جو ایک قسم کی پیسٹری ہوتی ہے۔ اس دن بادشاہ نے خلافِ معمول گنجائش سے کچھ زیادہ کھا لیا تھا، اچانک اس کی طبیعت بگڑ گئی اور بسیار خوری اس کی موت کا سبب بن گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں