منگل, اگست 11, 2026
اشتہار

کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ اب اقدام قتل کے مترادف، سزا کیا ہوگی؟

اشتہار

حیرت انگیز

(8 جنوری 2026): کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ معاشرے میں عام ہے مگر اب اس کو قانونی جرم قرار دے کر سخت سزائیں مقرر کر دی گئی ہیں۔

ہمارے خطے کے ممالک میں کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ کرنا عام ہو چکا ہے۔ ناجائز منافع خور اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے انسانی جانوں سے کھیلنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ کر کے فروخت کرتے ہیں۔

تاہم جو بھی ایسا کرتے ہیں، اب وہ قانونی مجرم ہوں گے، کیونکہ ملاوٹ کو اقدام قتل کے مساوی جرم قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سخت سزائیں مقرر کر دی گئی ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق حیدرآباد دکن میں کمشنر پولیس نے کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والے تمام تاجروں کو تنبیہہ کی ہے کہ وہ اس مکروہ فعل کو چھوڑ دیں، بصورت دیگر ان کا لائسنس منسوخ کر کے انہیں جیل بھیج دیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ کی روک تھام کے لیے پولیس اور فوڈ سیفٹی حکام نے خصوصی مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں اور اس حوالے سے ایس او پیز بھی جاری کر دیے ہیں۔

متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ ملاوٹ کرنے والوں کو پہلی بار تنبیہہ اور بار بار پکڑے جانے والوں کے لائسنس منسوخ کر کے انہیں جیل بھیجا جائے گا۔

واضح رہے کہ مارکیٹ میں روزمرہ کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ کی شکایات بڑھتی جا رہی ہیں۔

دودھ میں یوریا جیسا خطرناک کیمیکل ملایا جا رہا ہے جب کہ ادرک میں کیلے کے چھلکے اور دیگر کیمیکل، مسالوں میں لکڑی کا برادہ، مرچ پاؤڈر میں اینٹوں کا پاؤڈر، کالی مرچوں میں پپیتے کے بیج اور دیگر کیمیائی مادے ملائے جا رہے ہیں جب کہ کھانے کا تیل بھی جانوروں کی باقیات سے تیار کر کے فروخت کیا جا رہا ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں