The news is by your side.

Advertisement

کم عمر بچے جگر کی کس بیماری میں تیزی سے‌ مبتلا ہورہے ہیں؟‌ ڈاکٹر کا انکشاف

کراچی: ماہرِ امراض جگر ڈاکٹر عبداللہ بن خالد نے انکشاف کیا ہے کہ کم عمر بچے تیزی سے جگر کی بیماری میں مبتلا ہورہے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبرسویرا میں گفتگو کرتے ہوئے ماہرِ امراض اور ایڈیشنل ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف لیور ڈاکٹر عبداللہ نے بتایا کہ ہماری تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ کم عمر بچوں تیزی سے جگر کی سوزش کی بیماری میں مبتلا ہورہے ہیں۔

انہوں نے بچوں میں پھیلنے والی بیماری کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کی کوئی اور وجہ نہیں بلکہ فاسٹ فوڈ کا استعمال اور سست طرز زندگی ہے‘۔

ڈاکٹر عبداللہ کا کہنا تھا کہ جگر کی سوزش کا مسئلہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے، گزشتہ چند سالوں میں یہ بیماری بہت تیزی کے ساتھ رپورٹ ہوئی۔

طریقۂ علاج

انہوں نے بتایا کہ اس بیماری کا آسان اور واحد علاج طرز زندگی تبدیل کرنا ہے کیونکہ جو بچے ٹی وی یا موبائل اسکرین کے سامنے وقت گزارتے اور اسی دوران ناقص خوراک کھاتے ہیں تو اُن کے جگر میں سوزش ہوجاتی ہے۔

انہوں نے والدین کو منتبہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کو چاق و چوبند (متحرک) رکھیں، جسمانی کھیل کود کی طرف راغب کریں تاکہ اس بیماری سے بچوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔

واضح رہے کہ ہر بیسواں شخص جگر کے عارضے میں مبتلا ہے، جس کی کوئی اور وجہ نہیں بلکہ سرنج لگاتے وقت احتیاط نہ کرنا، سافٹ ڈرنگ، چینی اور ناقص غذاؤں کا استعمال ہے۔

ہیپاٹائٹس کس صورت میں لاحق ہوسکتا ہے؟

ڈاکٹر عبداللہ نے بتایا کہ جگر کی بیماری ہیپاٹائٹس میں تبدیل ہوجاتی ہے، عام طور پر ییپاٹائٹس اے اور ای گندے پانی کے استعمال کی وجہ سے پھیلتا ہے جبکہ ہیپاٹائٹس بی اور سی عطائی ڈاکٹر، استعمال شدہ سرنج لگوانے،  گندے خون، ناک کان چھدوانے، حجام کی استعمال شدہ اشیا سے بھی پھیل سکتا ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ نے بتایا کہ ہیپاٹائٹس اے اور ای عام طور پر جان لیوا نہیں مگر حاملہ خواتین کے لیے ہیپاٹائٹس ای خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وٹامن اے سے جگر کے امراض سے محفوظ رہا جاسکتا ہے، اس کے لیے پھلوں اور تازہ سبزیوں کا استعمال لازمی ہے۔

جگر کا مرض لاحق ہونے کی علامت؟

ڈاکٹر عبداللہ کے مطابق مناسب خوراک اور کھانے پینے کے باوجود جب جسم کو کوئی فرق نہ پڑے، جسم کمزور رہے تو اس کا مطلب ہے جگر ٹھیک طریقے سے کام نہیں کررہا کیونکہ جب جگر خراب ہو تو جسم کے خلیات ٹوٹنا شروع ہوجاتے ہیں جس کے بعد ہیپاٹائٹس کی صورت میں بیماریاں سامنے آتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جگر کے امراض سے بچنے کے لیے صحت بخش اشیا کا استعمال، مدافعتی نظام کو مضبوط رکھنا ضروری ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ نے مزید وضاحت کی کہ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ جگر کا کام خون بنانا ہے اور اس کی گرمی کی وجہ سے جلد پر دھبے پڑ جاتے ہیں، یہ غلط تاثرات ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں