The news is by your side.

Advertisement

ناورے کا پل، ایک بصری دھوکہ

اوسلو: ناورے میں ایک ایسا پل تعمیر ہے جسے دیکھ کر گمان ہوتا ہے گویا گاڑی پل کے اختتام پر گہری کھائی میں جاگرے گی، لیکن یہ ایک بصری دھوکہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق ناروے کے مغربی حصے میں اٹلانٹک روڈ پر ایسا ایسا پل تعمیر ہے جس دیکھ کر نظریں دھوکہ کھا جاتی ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس ’اسٹور سیسنڈیٹ‘ نامی برج کی ڈرامائی انداز سے تعمیر اسے دنیا کی خطرناک ترین شاہراہوں میں شمار کرتی ہے، جسے دیکھ کر لوگ خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔

دنیا بھر سے سیاح اس پل کو خصوصی طور پر دیکھنے کے لیے آتے ہیں، یہ پانچ میل طویل شاہراہ 1989 میں تعمیر ہوا جسے اب تک ہزاروں سیاہ دیکھ چکے ہیں۔

اس پل کی خاص بات یہ ہے کہ اسے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ایسے تعمیر کیا گیا ہے کہ دور سے نظریں دھوکہ کھا جائیں، ایسا لگتا ہے جیسے گاڑی پل کے اوپر جاکر آگے گہرے کھائی میں جاگرے گی، پہلی بار اس پر سفر کرنے والے ممکن ہے کہ اپنا راستہ تبدیل کرلے۔

مقامی افراد اس پل کو شرابی پل سے بھی یاد کرتے ہیں، پل کے نیچے بہنے والا سمندر جب موج میں ہو تو اس کی لہروں کی جھٹاس گاڑیوں کو چھوتی ہیں، جو کسی ایڈونچر اور انوکھے تجربے سے کم نہیں ہے۔

Related image

خیال رہے کہ اسے دنیا میں سب سے زیادہ کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہونے والا پل بھی قرار دیا جاتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں