The news is by your side.

Advertisement

وکلا ایکشن کمیٹی کا پاکستان بار کونسل سے 14 جون کی ہڑتال کی کال واپس لینے کا مطالبہ

کراچی: شہر قائد میں وکلا ایکشن کمیٹی نے پاکستان بار کونسل سے 14 جون کی ہڑتال کی کال واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی سندھ کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ احتساب سب کے لیے ہے، آج 5 ججز کے ہاتھ میں ملک کی تقدیر کا فیصلہ ہے، احتساب سب کا ہوگا کوئی نہیں بچ سکتا، تمام ججز سمیت سب کا احتساب ہونا چاہئے۔

وکلا ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس فائل ہوا ہے اس کی حمایت کرتے ہیں، چیف جسٹس سپریم کورٹ سے درخواست ہے ریفرنس کو چلنے دیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام ججز اور لفافہ وکلا کے خلاف ریفرنس فائل ہونے چاہئیں، ریفرنس کی سماعت خفیہ ہوتی ہے لیکن اس کو پبلک کردیا گیا ہے، سپریم کورٹ آئین اور قانون کے مطابق چلتی ہے، امید ہے سپریم کورٹ کوئی بھی فیصلہ انصاف پر مبنی کرے گی۔

مزید پڑھیں: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو حکومت نہیں ہٹاسکتی، جسٹس آصف سعید کھوسہ

وکلا ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ ہم بھی ووٹ کرتے ہیں، پاکستان بار کونسل ہم سے بھی مشاورت کرلیا کرے، آئین کے مطابق جس کی اہلیہ دہری شہریت رکھتی ہو وہ کوئی عوامی عہدہ نہیں رکھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ججز نے ہی دہری شہریت سے متعلق فیصلہ دیا تھا، ججز دہری شہریت کے اپنے ہی فیصلے پر عمل تو کرائیں، مطالبہ کرتے ہیں جتنے بھی ججز ہیں سب کا احتساب ہونا چاہئے۔

وکلا ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے یہا کہ ججز کوئی مقدس گائے نہیں، یہ کیا طریقہ ہے وکیل کو پکڑو اور جج کو نہیں پکڑو۔

انہوں نے کہا کہ وکلا برادری میں ہمیشہ جمہوری تسلسل رہا ہے، جمہوری تسلسل کا مطلب یہ نہیں ہزاروں وکلا کی تقدیر کے مالک بن جائیں، یہ کسی صورت قبول نہیں من مانی کو وکلا کے سر تھوپا جائے، وکلا کی بڑی تعداد کا یکسر نظر انداز کرکے مرضی کا احتجاج نہیں کرایا جاسکتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں