The news is by your side.

Advertisement

وزیراعلیٰ سندھ کی شوگرانکوائری کمیشن میں طلبی، ڈی جی ایف آئی اے کوایک اورخط

اسلام آباد : ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے وزیراعلیٰ سندھ کی شوگرانکوائری کمیشن میں طلبی پر ایک بار پھر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہ طلبی سےمتعلق نوٹس فوری واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق چینی کی ایکسپورٹ اور سبسڈی دینے کے معاملے پر شوگرانکوائری کمیشن کے روبرو وزیراعلیٰ سندھ کی طلبی کے نوٹس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے ڈی جی ایف آئی اے کوایک اورخط لکھ دیا۔

خط میں ایڈووکیٹ جنرل سلمان طالب الدین نے وزیراعلیٰ سندھ کی طلبی سےمتعلق نوٹس فوری واپس لینےکامطالبہ کیا ہے اور کہا کہ سمجھنے سے قاصر ہیں اس معاملےمیں سندھ حکومت کوکیوں گھسیٹاجارہاہے، سبسڈی ہویاچینی کی قیمت بڑھنےکامعاملہ،سندھ حکومت سےتعلق ہی نہیں۔

خط میں سلمان طالب الدین کا کہنا تھا کہ 2017 – 18 میں سندھ میں چینی کی قیمت ویسے ہی کم تھی، انکوائری کمیشن جس معاملےکی تحقیقات کر رہاہے، اس کا تعلق پنجاب حکومت سے ہے ، چینی ایکسپورٹ کافیصلہ سندھ حکومت نہیں بلکہ وفاقی حکومت کااقدام تھا۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے وزیراعلیٰ سندھ کی طلبی پر ایک بار پھر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا انکوائری کمیشن 14 مئی کو وزیراعلیٰ سندھ کی طلبی فوری واپس لے، وزیراعلیٰ کی طلبی کانوٹس وزارت داخلہ نوٹیفکیشن کےقواعدکےدائرےمیں نہیں آتا۔

خیال رہے چینی سبسڈی کے معاملے پر چینی انکوائری کمیشن نے وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کو آج طلب کیا تھا تاہم مراد علی شاہ نے کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا تھا۔

طلبی کا نوٹس ملنے پر اب وزیراعلیٰ سندھ پیش نہ ہونے کے لیے ہیلے بہانے بنا رہے ہیں اور وزیراعلیٰ کی ایما پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے ڈی جی ایف آئی اے کو جوابی خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا کہ کمیشن کے ٹی او آرز کے تحت وزیراعلیٰ کوطلب نہیں کیاجاسکتا، ایف آئی اے وزیراعلیٰ سندھ کی طلبی کا لیٹر فوری واپس لے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں