منگل, فروری 17, 2026
اشتہار

میں مر بھی جاتا تو بھی کالاکوٹ زندہ رہتا ، لطیف کھوسہ

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ میں لفٹ میں پھنس کر مر بھی جاتا تو بھی کالاکوٹ زندہ رہتا، عدلیہ آزادفیصلےکرے کسی دباؤ میں نہ آئے۔

تفصیلات کے مطابق لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا کو 45 منٹ بعد لفٹ سے نکال لیا گیا ، نعیم حیدر پنجوتھا، علی اعجاز بٹر سمیت 15افراد کو بحفاظت باہر نکالا گیا۔

تمام افراد چیف جسٹس کی عدالت سے نکل کر تھرڈ فلور سے لفٹ میں سوار ہوئے تو لفٹ گراؤنڈ فلور پر آنے کے بجائے سیکنڈ فلور پر پھنس گئی تھی، 12 بجے لفٹ میں سوار 10 سے زائد وکلا کو پونے 1 بجے لفٹ سے نکالاگیا۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایک گھنٹے سے زیادہ لفٹ میں بند ہونے سے حبس کی کیفیت تھی، 25 کروڑ عوام 16 ماہ سے یہی حبس دیکھ رہےہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ غلط فہمی ہےکہ وکلاکےعزم کومار دیں گے، میں مر بھی جاتا تو بھی کالاکوٹ زندہ رہتا ، عدلیہ آزادفیصلےکرے کسی دباؤ میں نہ آئے، ہم وکلا تحریک چلانے جارہے ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں