The news is by your side.

Advertisement

برتر کون….؟ (دل چسپ حکایت)

ایک دفعہ چیونٹی اور ایک مکھّی کہیں آمنے سامنے ہوگئیں۔ باتوں باتوں میں‌ ایسا ہوا کہ ان میں اس بات پر تکرار شروع ہوگئی کہ کون برتر ہے۔

مکھی کہنے لگی کہ دنیا میں کون سی مجلس عیش و نشاط کی ہوتی ہے کہ جس میں ہم شریک نہیں ہوتے۔ سارے بُت خانے اور عالی شان عمارتیں میرے لیے کھلی رہتی ہیں۔ بتوں کے آگے کا خاصہ ہم چکھتے ہیں اور شاہ زادوں کی دعوت کھاتے ہیں اور لطف یہ ہے کہ بغیر خرچ اور دردِ سر کے یہ سب چیزیں ہم کو میسّر ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی بادشاہوں کے تاج پر پاؤں رکھ دیتے ہیں اور کبھی کبھی نازنینوں کے لب سے لب ملاتے ہیں۔ بھلا تیری کیا حقیقت ہے کہ میرے آگے اپنی بزرگی جتاتی ہے؟

چیونٹی نے یہ سنا تو غصّے سے جواب دیا، چپ رہ! اور فخرِ بے ہودہ نہ کر۔ تجھے کیا معلوم نہیں کہ مہمان اور بن بلائے میں کتنا فرق ہے؟ اور تیری صحبت کو لوگ ایسا پسند کرتے ہیں کہ جہاں تجھے پاتے ہیں مار ڈالتے ہیں۔ تجھ سے کسی کو کچھ حاصل نہیں، یہاں تک کہ جس چیز کو تُو چھوتی ہے اس میں پِلو پڑ جاتے ہیں۔ اور خوب صورتوں کے منہ چومنے پر ناز مت کر۔ گھورے پَر کے غلیظ کے سوا تیرے منہ سے کیا نکلتا ہے جس کو معشوق اور لطیف طبع لوگ پسند کریں۔ اور میرا حال یہ ہے کہ بندی جو خود پیدا کرتی ہے، اسی کو کھاتی ہے اور لوٹ اور تاراج سے علاقہ نہیں رکھتی اور گرمیوں کے دن میں خوب ذخیرہ کرتی ہے تاکہ جاڑوں میں اوقات بسر ہو۔ اور تیری زندگی اس کے برعکس کٹتی ہے کہ چھے مہینے اٹھائی گیروں کی طرح ادھر اُدھر سے لوٹ پاٹ کر کھاتی ہے اور باقی چھے مہینے فاقہ کرتی ہے۔

حاصلِ کلام یہ کہ انسان کو بات منہ سے نکالتے ہوئے خوب سوچ لینا چاہیے اور اپنی حیثیت و مرتبہ دیکھ کر بات کرنا چاہیے۔ ہم جب تک اپنے گریبان میں نہیں‌ جھانکتے، ہمیں‌ اپنا آپ ہی اچھا نظر آتا ہے، لیکن جب دوسروں سے اپنے بارے میں سنتے ہیں تو جو حقیقت سامنے آتی ہے، وہ ہمارے لیے باعثِ شرم اور آزار بھی ہوسکتی ہے۔ سچ ہے، ہر ایک کی اپنی اپنی جگہ اہمیت ہے۔

(ماخذ: جوہرِ اخلاق، مصنّف ایسوپ)

Comments

یہ بھی پڑھیں