The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم کو چیف جسٹس سے ملاقات میں کچھ حاصل نہیں ہوا، اعتزاز احسن

کراچی: پیپلزپارٹی کے رہنماء اعتزاز احسن نے کہا نوازشریف کی ہدایت کے بغیر شاہد خاقان عباسی چیف جسٹس سے ملاقات کا وقت نہیں لے سکتے، وزیراعظم 2گھنٹےچیف جسٹس کےساتھ بیٹھے مگر اس سے کچھ حاصل نہیں ہوا جبکہ مسلم لیگ کے رہنماء تاثر دے رہے ہیں کہ سب طے ہوگیا۔

اے آر وائی کے پروگرام سوال یہ ہے میں گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اگر چیف جسٹس سے ملاقات میں قانونی معاملہ زیر بحث ہوتا تو اٹارنی جنرل لازمی ساتھ ہوتے، اصل بات یہ ہےوزیراعظم نے2گھنٹےکیافریادکی ہوگی؟ شاہدخاقان کے لیےموزوں ہے کہ وہ ملاقات کےحقائق کو مخفی رکھیں۔

اُن کا کہنا تھاکہ نوازشریف کی ہدایت کےبغیر وزیراعظم ملاقات کیلئےوقت نہیں مانگ سکتے کیونکہ اُن کے ذہن میں اپنے مقدمات و دیگر معاملات ہیں، شاہد خاقان پارٹی قائد کی ہدایت پر ہی ملاقات کے لیے گئے مگر اُس سے یقیناً کچھ نہیں ملا ہوگا۔

پی پی رہنماء کا کہنا تھاکہ 2 گھنٹے طویل ملاقات کی منطق اور منت سماجت سمجھ سے بالا تر ہے کیونکہ اتنی دیر سرکاری امور پر بات چیت نہیں ہوسکتی، مسلم لیگ ن کے رہنماء اب نجی محفلوں میں کہتے پھررہے ہیں کہ 2 گھنٹے میں سب طے ہوگیا۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ نیب کی پنجاب میں کارروائیاں نوازشریف کے لیے پریشان کُن ہیں، آشیانہ اسکیم اور احدچیمہ کامعاملہ آیاتوشہبازشریف نےہاتھ جوڑلیے اور اب وزیراعلیٰ پنجاب کہتے ہیں کہ نظام چلنے دیں کوئی درمیانی راستہ نکالیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی چیف جسٹس پر ہونے والی تنقید اس بات کی غمازی کررہی ہے کہ ملاقات میں کچھ بھی طےنہیں ہوا، مسلم لیگ ن نے ملاقات کے ذریعے پیغام دینے کی کوشش کی جو رائیگاں گئی کیونکہ نوازشریف متوقع فیصلے سے بہت خوفزدہ ہیں۔

اعتراز احسن کا کہنا تھا کہ احدچیمہ اورچندافسران گرفتارہونےپر مسلم لیگ ن کی چیخیں نکل گئیں، ادارےجب پنجاب کی طرف آئےتو حکمراں جماعت نے ان پر اعتماد کرنا چھوڑ دیا جبکہ شریف خاندان کا 30سال سے کوئی احتساب ہی نہیں ہوا۔

پی پی رہنماء کا مزید کہنا تھا کہ نوازشریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں شامل نہیں تو یہ پانچ یا 6 دن کے لیے لندن جاکر کلثوم نواز کی تیمارداری کرسکتے ہیں اور پھر واپس آکر انہیں پیشیاں بھگتنی ہیں، ویسے جس ملزم کے2بیٹےمفرور ہوں اُسے حاضری سے استثنیٰ تو دورضمانت ملتا مشکل ہوتی ہے۔

سینئر قانون دان کا مزید کہنا تھاکہ نیب عدالتوں میں چلنے والے مقدمات میں مجھے سزا سے سوا کچھ نظر نہیں آرہا، امکان ہے نوازشریف 10 سے 12 دن اڈیالہ میں قید رہیں گے اُس کے بعد انہیں ضمانت مل جائے گی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں