افغان خفیہ ایجنسی کراچی دہشت گردی میں ملوث ہے، ڈی جی رینجرز سندھ -
The news is by your side.

Advertisement

افغان خفیہ ایجنسی کراچی دہشت گردی میں ملوث ہے، ڈی جی رینجرز سندھ

کراچی: ڈی جی رینجرز سندھ بلال اکبر کا کہنا ہے کہ شہر قائد میں 2008 سے 2013 تک روزانہ 10 افراد قتل ہوتے تھے تاہم آپریشن کے بعد سے قتل و غارت کے واقعات میں نمایاں حد تک کمی ہوگئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی ایسو سی ایشن بلڈر اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ڈی جی رینجرز نے مزید کہا کہ کراچی آپریشن کے بعد سے یومیہ قتل و غارت کے واقعات کی شرح کم ہوگئی اور اب اوسطاً شہر میں 2 افراد قتل و غارت کا نشانہ بنتے ہیں۔

پڑھیں : وفاق نے رینجرزکوسندھ میں اختیارات دے دیئے، دو نوٹیفکیشن جاری

ڈی جی رینجرز کا کہنا تھاکہ ’’کراچی میں اختیارات ملنے کے بعد سے حالات میں بہتری آئی، ہم شہریوں کے ساتھ مل کر جلد امن و امان قائم کردیں گے، شہر میں جاری آپریشن اسی شدت سے جاری رہے گا‘‘۔

میجر جنرل بلال اکبر کا کہنا تھا کہ ’’تین سال میں آپریشن کے دوران 6 ہزار سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 1200 افراد کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے جبکہ دیگر 855 افراد کا تعلق دیگر جماعتوں عسکری ونگ کے 855 ٹارگٹ کلز کو بھی گرفتار کیا گیا ہے‘‘۔

مزید پڑھیں :   رینجرز کے اختیارات میں توسیع، اندرون سندھ کارروائی نہیں‌ کرسکے گی

انہوں نے مزید کہا کہ ’’کراچی آپریشن سے قبل شہر کو جرائم پیشہ افراد نے یرغمال بنائے رکھا تھا، خصوصی اختیارات ملنے کے بعد سے شہر کے حالات میں بہت بہتری آئی ہے ۔ شہر میں دیرپا امن کو قائم رکھنے کےلیے آپریشن کو اسی شدت سے جاری رکھا جائے گا۔

ڈی جی رینجرز نے انکشاف کیا کہ ’’شہر سے غیر قانونی پیسہ حاصل کر کے اسے کراچی کے نہتے عوام پر استعمال کیا گیا اور شہر میں  قتل و غارت کی گئی۔افغان خفیہ ایجنسی بھی کراچی کی دہشت گردی میں ملوث ہے‘‘۔

اسے بھی پڑھیں :  رینجرز کو اختیارات دینے کی کبھی مخالفت نہیں کی، فاروق ستار

پاک چین اقتصادی راہداری پر تبصرہ کرتے ہوئے میجر جنرل بلال اکبر نے کہا کہ ’’اس منصوبے کے بہت سے دشمن ہیں اور اس کی ناکامی کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی را بھی متحرک ہے‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں