کراچی میں غیرقانونی طور پر تعمیرات کے خلاف افغان بستی میں جاری آپریشن مکمل کر لیا گیا۔
غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کی گئی کارروائی کے دوران 350 سے زائد غیرقانونی مکانات اور دکانیں مسمار کر دی گئیں جب کہ حراست میں لیےگئے تمام افراد کو وارننگ دےکر چھوڑ دیا گیا۔
آپریشن میں انکروچمنٹ، پولیس، رینجرز و دیگر قانون نافذ کرنیوالے ادارے موجود تھے۔ آپریشن کل صبح 8 بجے دوبارہ شروع کیاجائےگا۔
غیرقانونی تعمیرات کیخلاف آپریشن کےدوران کئی افراد نے ہنگامہ آرائی بھی کی اور اس دوران قانون نافذ کرنے والی ٹیموں پرحملہ کرنےوالوں کوحراست میں لیا گیا۔
دوسری جانب افغان کیمپ خالی ہونے کے بعد قبضہ مافیا سرگرم ہوگئی، کیمپ میں تجاوزات کی روک تھام کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست کی گئی ہے۔
ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو درخواست دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ افغان کیمپ ایم ڈی اے لینڈ کے نام سے جانا جانے والا علاقہ ہے، علاقہ تھانہ گلشن معمار اور ڈسٹرکٹ ویسٹ کراچی کی حدود میں واقع ہے۔
ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے کہا کہ یہ علاقہ 3 ہزار 117 مکانات پر مشتمل ہے، 200 سے 250 پاکستانی خاندانوں کے مکانات بھی اس میں شامل ہیں۔
اس سے قبل کیمپ میں تقریباً 15 ہزار 680 افغان مقیم تھے، 14 ہزار 296 افغان باشندے واپس افغانستان جاچکے ہیں، باقی ایک ہزار 384 افغان شہری اب بھی وہاں مقیم ہیں۔
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز سے وابستہ سینئر صحافی اور کرائم رپورٹر ہیں، وہ 14 سال سے زائد عرصے سے اپنے شعبے میں مصروف عمل ہیں اور انویسٹیگیٹو نیوز بریکنگ میں مہارت رکھتے ہیں، اور کراچی کے جرائم اور پولیس نظام سے متعلق گہری سمجھ بوجھ کے حامل ہیں۔


