The news is by your side.

امریکہ اور یورپ نے افغان پناہ گزینوں کے داخلے پر پابندی لگادی

اسلام آباد : امریکہ اور یورپ نے پناہ کے متلاشی مزید افغان شہریوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے، جس کے بعد پاکستان میں ان کے قیام کے حوالے سے مزید خدشات نے جنم لیا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو آگاہ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے مزید افغان پناہ گزینوں کو لینے سے انکارکے بعد 14 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی موجودگی کے باعث پاکستان کو سنگین صورتحال درپیش ہے۔

روزنامہ ’ڈان‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کمیٹی کے اراکین کو یہ جان کر بھی حیرت ہوئی کہ حکومت نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی پالیسی وضع نہیں کی ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرپرسن ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو کی سربراہی میں ہوا جس میں وزارت خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے تفصیلی بریفنگ دی۔

عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان مزید مہاجرین کی آمد کا متحمل نہیں ہو سکتا اور ساتھ ہی وہ ان پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کے لیے زبردستی بھی نہیں کرسکتا جہاں ان کی جان کو خطرہ تھا۔

کمیٹی کے اراکین کو بتایا گیا کہ اگست 2021 کے بعد پاکستان آنے والے افغان شہریوں کو پناہ گزین نہیں سمجھا جاتا کیونکہ وہ پناہ کے متلاشی ہیں اور امریکا اور بعض یورپی ممالک جانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان افغانیوں کو ان کے مطلوبہ ممالک میں جانے کی اجازت نہیں ملی تو حکومت اس بات کا جائزہ لے گی کہ ان کی دیکھ بھال کیسے کی جاسکتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں