site
stats
خواتین

افغان فضائیہ کی پہلی خاتون پائلٹ پناہ کی تلاش میں

کابل: کسی ملک کی فوج میں خواتین کی شمولیت، ان کا صف اول کے محاذ کے لیے تیار رہنا اور خطرناک جنگی طیارے اڑانا آج کل ایک عام بات بن چکی ہے۔ خواتین کے لیے دور اب پہلے جیسا نہیں رہا، اب وہ ہر اس شعبے میں نظر آرہی ہیں جو پہلے صرف مردوں کے لیے ہی مخصوص سمجھا جاتا ہے۔

البتہ کسی قدامت پسند معاشرے میں کسی خاتون کا اس مقام تک جانا یقیناً ایک مشکل مرحلہ نظر آتا ہے، لیکن نیلوفر رحمانی ایسی ہی ایک افغان خاتون ہیں جو تمام مشکلات کو سر کر کے بالآخر افغان فضائیہ کی پہلی خاتون پائلٹ بننے کا اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔

afghan-2

چند سال قبل جب افغانستان میں طالبان کا قبضہ تھا، تب تو ان کا یہاں تک پہنچنا بالکل ہی ناممکن تھا، لیکن ان کے جانے کے بعد بھی حالات اتنے آسان نہیں ہیں۔ ایک قدامت پسند معاشرے کے لیے ایک عورت کو اس مقام پر دیکھنا بڑا دل گردے کا کام ہے۔

بقول خالدہ پوپل، ’افغانستان سے طالبان کا کنٹرول ختم ہونے کے باوجود ان کی سوچ لوگوں میں سرائیت کر چکی ہے اور لڑکیوں کا مختلف شعبوں میں جانا انتہائی برا خیال کیا جاتا ہے‘۔

خالدہ افغانستان کی پہلی ویمن فٹبال ٹیم کی کپتان ہیں اور قتل کی دھمکیاں موصول ہونے کے بعد فی الحال افغانستان سے باہر رہائش پذیر ہیں۔ اب وہ دنیا بھر میں خواتین کی خود مختاری کے لیے کام کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: افغانستان کی خالدہ پوپل ۔ عزم و ہمت کی روشن مثال

خالدہ کی طرح نیلوفر رحمانی کو بھی افغانستان میں بے شمار دھمکیاں موصول ہوئیں جس کے بعد مجبور ہو کر انہوں نے امریکا میں سیاسی پناہ کی درخواست دے دی ہے۔

ایک امریکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’افغانستان میں کچھ بھی نہیں بدلا، خواتین کے لیے حالات ویسے ہی ہیں۔ اگر تبدیلی آئی ہے تو صرف اتنی کہ حالات پہلے سے بدتر ہوگئے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: افغان خواتین کی غیر قانونی قید ۔ غیر انسانی مظالم کی دردناک داستان

نیلوفر نے سنہ 2013 میں ہرات کے شندند ایئر بیس سے گریجویشن مکمل کی۔ اس وقت وہ اپنے ملک کے لیے خدمت انجام دینے کا عزم رکھتی تھیں، تاہم انسانی فطرت کے عین مطابق اب وہ اپنی زندگی کو پہلی فوقیت دیتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ان کے لیے حالات ٹھیک نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف انہوں نے امریکا میں رہائش کے لیے درخواست دے دی ہے، بلکہ وہ امریکی فوج میں شامل ہو کر اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہیں۔

انہوں نے اپنی 15 ماہ کی تربیت بھی امریکی ریاست ٹیکسس سے حاصل کی ہے۔

afghan-5

afghan-4

afghan-6

سنہ 2015 میں نیلوفر اس وقت پہلی بار خبروں کی زینت بنی تھیں جب انہوں نے افغان فضائیہ کا پہلا طیارہ اڑا کر افغانستان کی پہلی خاتون پائلٹ بننے کا اعزاز اپنے نام کیا تھا۔ اسی سال انہیں واشنگٹن میں سال کی باہمت ترین خاتون کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔

نیلوفر رحمانی ان افغان لڑکیوں کے لیے ایک مثال ہیں جو اپنی خداداد صلاحیتوں کا استعمال کرنا چاہتی ہیں، اور کچھ کر گزرنا چاہتی ہیں، لیکن اس کے لیے وہ معاشرے کی قدامت پسند روایتوں کو توڑنے کی ہمت نہیں رکھتیں۔ وہ روایتیں، جو بقول خالدہ پوپل خواتین کے لیے زیادہ سخت اور بے لچک ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top