کابل (11 فروری 2026): خاندان کی کفالت کرنے کے لیے مردانہ بھیس بدل کر روزگار کمانے والی افغان لڑکی کو گرفتار کر لیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کے صوبہ ہلمند میں طالبان فورسز نے نوریہ نامی نوجوان لڑکی کو گرفتار کیا ہے، جس کا جرم یہ ہے کہ وہ مردانہ بھیس بدل کر روزگار کماتی اور گھر والوں کا پیٹ بھرتی تھی۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر تیزی سے ایک ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے، جس میں افغان نوجوان لڑکی کا کہنا ہے کہ اس کے والد انتقال کر چکے ہیں اور گھر میں کوئی کمانے والا نہیں۔
انتہائی غربت اور آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ ہونے کے باعث اسے اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرنے کے لیے مردانہ بھیس بدلنا پڑا اور وہ تین سال سے نور احمد کے فرضی نام سے ایک کیفے میں مردانہ بھیس بدل کر کام کر رہی تھی۔
ہہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب طالبان کی دوبارہ اقتدار میں آمد کے بعد سے خواتین پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ زیادہ تر سرکاری اداروں اور بہت سے نجی شعبوں میں خواتین کے کام کرنے پر پابندی ہے جبکہ ان پابندیوں میں غیر سرکاری تنظیمیں، میڈیا اور بعض سروس سیکٹرز بھی شامل ہیں۔
اس صورتحال کے نتیجے میں ہزاروں خواتین اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں اور بہت سے خاندان آمدنی کے اہم ذریعے سے محروم ہو گئے ہیں۔
دا د افغان وطن حال دی.
د نوريه په نوم ديارلس کالنه انجلۍ چې د اقتصادي مشکلاتو له امله یې له تېرو دريو کالونو راهيسې د کورنۍ نفقه د برابرولو دپاره نارينه جامې آغوستې، د تالبانو لخوا نیول شوي ده، خو دا چې پر ځای د دې چې د کورنۍ مسؤليت ته يې ټټر ووهي په وهلو ټکولو يې له کاري… pic.twitter.com/eyUwg1CYXe— Sohail Noor Khan (@sohailnoorkhan) February 6, 2026
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


