The news is by your side.

قندوز میں طالبان نے خواتین کی عصمت دری کی، افغان حکومت

کابل: افغان حکومت نے قندوز پر قبضے کے لئے طالبان کے ساتھ دوہفتے جاری رہنے والی لڑائی میں شدت پسندوں پرخواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا ہے۔

طالبان شدت پسند تین روز تک قندوزپرقابض رہے تھے اور پھر سیکیورٹی فورسز نے انہیں نکال باہر کیا تھا تاہم یہ لڑائی دو ہفتے تک جاری رہی جس کے نتیجے میں ہزاروں شہری قریبی صوبوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے۔

اس لڑائی کے اسپتالوں سے ملنے والی معلومات کے تحت دوران کم ازکم 50 شہری جان سے مارے گئے تھے اور 350زخمی ہوئے تھے جبکہ افغان ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق یہ تعداد کہیں زیادہ تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل اوردیگراداروں کی جانب سے مرتب کی جانے والی رپورٹس کے مطابق شہرپرتین روزہ تسلط کے دوران طالبان شدت پسندوں نے کئی ہیلتھ ورکرز اور قیدی خواتین کوزیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔

طالبان کا موقف

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کا جسمانی اورمالی نقصان جنگ کا حصہ ہے تاہم ہم خیال رکھتے ہیں کہ عام شہریوں کو کم سے کم مشکل کا سامنا کرنا پڑے۔

دوسری جانب قندوزچھوڑ کرکابل میں اپنے بچوں کے ساتھ مقیم کئی خواتین کا کہنا ہے کہ انہوں نے طالبان کی جانب سے خواتین کی عصمت دری کی خطری سننے کے بعد شہر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

قندوز سے اپنی پانچ بیٹیوں اور ایک بیٹے کے ساتھ فرار ہونے والی نادرہ نہرینوال کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی عصمت بچانا چاہتی تھیں اسی لئے شہر چھوڑآئیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں