ہفتہ, فروری 14, 2026
اشتہار

انٹرنیٹ بندش سے متعلق افغان حکومت کا اہم بیان

اشتہار

حیرت انگیز

افغان عبوری حکومت نے افغانستان بھر میں انٹرنیٹ بندش کی خبروں کی تردید کر دی۔

عبوری حکومت کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ پرانی فائبر آپٹک کیبلز کی خرابی کے باعث انٹرنیٹ متاثر ہوا ہے، افواہیں درست نہیں، انٹرنیٹ پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔

پیر سے شروع ہونے والی کمیونی کیشن بندش نے ٹیلی فون سروسز کو بھی متاثر کیا ہے۔ انٹرنیٹ واچ ڈاگ نیٹ بلاکس کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ ریکارڈ ہوا ہے۔

16ستمبر کو افغانستان کے صوبے بلخ میں فائبر انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کیا گیا تھا۔ گزشتہ ماہ بدخشاں، تخار، ہلمند، قندھار اور ننگرہار میں بھی انٹرنیٹ پر پابندیاں لگائی گئیں۔

افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان نے ایک ہفتےمیں تھری جی اور فورجی سروسز ختم کرنےکی ڈیڈلائن دی ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش سے کئی پروازیں منسوخ ہوگئی اور بینکنگ کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہوگیا۔

افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے ملک بھر میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کی بندش کے بعد کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تمام پروازیں بھی منسوخ کر دی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق اس اقدام سے افغانستان مکمل طور پر دنیا سے کٹ گیا ہے، اقوام متحدہ نے طالبان حکام سے فوری طور پر انٹرنیٹ اور کمیونیکیشن سروسز بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بندش افغان عوام کو مزید معاشی مشکلات اور انسانی بحران میں دھکیل دے گی۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں