The news is by your side.

Advertisement

افغان حکومت اور بھارت کا ایک اور گٹھ جوڑ بے نقاب

نئی دہلی: افغان حکومت طالبان سے نمٹنے کے لئے بھارت کی طرف دیکھنےلگی، بھارت میں تعینات افغان سفیر نے اہم بیان دے ڈالا ہے۔

بھارت میں تعینات افغان سفیر نے بھارت سے عسکری امداد لینے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بھارت افغان فورسز کو عسکری سازو سامان فراہم کرتا رہا ہے،بھارت نے افغان فورسز کو طالبان کے خلاف حملوں کے لئے ایک درجن ہیلی کاپٹرز دے رکھے ہیں۔افغان سفیر نےکہا کہ طالبان سے بات چیت ناکام ہوئی تو بھارت سے فوجی امداد طلب کرسکتے ہیں، اس کے علاوہ افغان فضائیہ کو طالبان کے خلاف موثر حملوں کے لئے بھارت کی مدد کی ضرورت ہوگی، افغان پائلٹس کو ٹریننگ کی ضرورت بھی ہوگی جو بھارت دے سکتا ہے۔

گذشتہ روز افغان طالبان نے افغانستان کے اہم ضلع اسپین بولدک پر قبضہ کر کے وہاں سے کروڑوں روپے مالیت کی پاکستانی کرنسی برآمد کی تھی۔

ذرائع کے مطابق افغان فورسز اسپین بولدک میں اسمگلرز سے پاکستانی کرنسی چھین لیا کرتی تھیں، جسے افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس پاکستان میں تخریب کاری کے لیے استعمال کرتی تھی۔

این ڈی ایس اور بھارتی خفیہ ایجنسی را پاکستان میں فتنہ پھیلانےکیلئے بھی یہی کرنسی استعمال کرتی تھی۔

گیارہ جولائی کو بھی افغانستان میں جاری طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپوں میں بھارت کے ڈبل گیم کھیلنے کا ڈرامہ بے نقاب ہوا تھا، اطلاعات کے مطابق سفارتی عملےکےانخلاکےنام پر دوبھارتی سی17 طیاروں کی افغانستان آمد ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں بھارت کا ڈبل گیم بے نقاب

طیارے بظاہر اپنےعملےکو لینےآئےلیکن درحقیقت دونوں اسلحے سے بھرے ہوئے تھے یہ طیارے افغانستان میں اسلحےکی بڑی کھیپ اتار کر آئے، بھارتی طیاروں میں لایا گیا اسلحہ افغان طالبان کےخلاف استعمال ہوناہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ اسلحہ بھارت نے طالبان کےخلاف اشرف غنی حکومت کو فراہم کیا، دس جولائی کو بھارتی طیارہ قندھار میں 122ایم ایم کنن کی40ٹن گولیاں لےکر گیا جبکہ گیارہ جولائی کو دوسرےطیارےسے40ٹن گولیاں کابل پہنچائی گئیں، کابل اورقندھارمیں بھارتی طیاروں سےاسلحہ اتارتےبھی دیکھا جاسکتا ہے

Comments

یہ بھی پڑھیں