The news is by your side.

Advertisement

میران شاہ فائرنگ، افغان میڈیا کا پروپیگنڈا بے نقاب، معافی مانگنا پڑ گئی

وزیرستان: خیبرپختونخواہ کے قبائلی علاقے میران شاہ میں پیش آنے والے واقعے پر افغان میڈیا نے سنسنی پھیلانے کی کوشش کی تاہم وہ ناکام ہوگئی جس کے بعد ادارے کو اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پڑا۔

تفصیلات کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں واقع بویا کی خار کمر چیک پوسٹ پر پی ٹی ایم کے رہنماؤں علی وزیر اور محسن داوڑ نے ساتھیوں سمیت پیش قدمی کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پی ٹی ایم کارکنان کے حملے میں پانچ فوجی فائرنگ سے زخمی ہوئے جبکہ جوابی کارروائی میں تین حملہ آور مارے گئے، اس موقع پر افغان میڈیا نے بنا تصدیق کچھ تصاویر شیئر کر کے پی ٹی ایم کو دنیا بھر میں ہمدردری دلانے کی کوشش کی مگر اس میں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی ایم حملہ ، پانچ فوجی زخمی، جوابی کارروائی میں تین ہلاک 10 زخمی

یہ بھی پڑھیں: چند افراد مذموم مقاصد کے لیے پی ٹی ایم کارکنوں کو اکسا رہے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

پژواک افغان نیوز نے ایک پرانی تصویر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ میران شاہ فائرنگ کے واقعے میں 45 افراد جاں بحق ہوگئے، البتہ جب صارفین نے انہیں بتایا کہ تصویر 2012 کی ہے تو انہوں نے معذرت کی اور اسے اپنے اکاؤنٹ سےڈیلیٹ کردیا۔ افغان میڈیا نے مظاہرے کی پروپیگنڈا تصویر دی تھی ،کسی اور واقعے کو آج سے جوڑ کر پروپیگنڈا کیا جارہا تھا ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں