The news is by your side.

Advertisement

افغان حکام کا ایس پی طاہرداوڑ کا جسد خاکی پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار،ذرائع

پشاور : افغان حکام نے ایس پی طاہرداوڑ کا جسدخاکی پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار کردیا اور کہا ایس پی طاہرداوڑ کا جسد خاکی صرف محسن داوڑ کو دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق افغان حکام نے ایس پی طاہرداوڑ کا جسدخاکی پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار کردیا ، جس کے بعد حکومتی اقدامات کے برعکس ایم این اے محسن داوڑکی افغان حکام سے بات چیت جاری ہے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ ایس پی طاہر داوڑ کا جسدخاکی صرف محسن داوڑ کو دیا جائے گا، ایم این اے محسن داوڑ کا تعلق پی ٹی ایم سے ہے۔

شہریارآفریدی اورشوکت یوسفزئی اور ایس پی طاہر داوڑ  کے اہل خانہ طورخم بارڈر پر جسد خاکی وصول کرنے کے لیے موجود ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار امجدشعیب کا کہنا ہےکہ افغان انٹیلی جنس کےساتھ ملاقاتوں کےپول کھل چکےہیں، افغان شہری بیرون ملک پی ٹی ایم کیساتھ مل کرملک مخالف مہم چلاتےرہے۔

امجدشعیب کا کہنا تھا کہ ایس پی طاہرداوڑکےقتل کی تحقیقات کادائرہ وسیع کرناچاہیے، سازش سےپردہ چاک ہوگیاہے،افغان انٹیلی جنس اورپی ٹی ایم بے نقاب ہوگئی، طاہرداوڑ کے قتل کے خلاف احتجاج کا شوشہ چھوڑ کر مقاصد حاصل کیے جائیں گے۔

وزیرِ اطلاعات کے پی شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ سرکاری اعزاز کے ساتھ طاہرداوڑ شہید کا جسدخاکی پشاور لایا جائے گا، ایس پی طاہرداوڑنڈر اور بہادر پولیس افسرتھے۔

ایس پی طاہرداوڑکاقتل، افغان ناظم الامورکی دو بار دفترخارجہ طلبی


اس سے قبل ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایس پی طاہرداوڑ افغانستان میں قتل پر افغان ناظم الامور کو 2 بار دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور احتجاج ریکارڈکرایا، شہید کے جسدخاکی کوقونصلیٹ منتقل کرنے کے لیے کہا ہے، مطالبہ کیا ہے جلد جسد خاکی پاکستان کےحوالے کیا جائے۔

وزیراعظم عمران خان کا نوٹس


دوسری جانب وزہراعظم عمران خان نے ایس پی طاہرداوڑ کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر مملکت داخلہ شہریارآفریدی کوتحقیقات کی نگرانی کا حکم دیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے ، خیبرپختونخواکی پولیس کو تحقیقات میں اسلام آبادپولیس سے تعاون کرنے کی ہدایت کی۔

دفتر خارجہ کی ایس پی طاہرداوڑ کے قتل کی تصدیق


گذشتہ روز دفتر خارجہ نے اسلام آباد سے اغوا ایس پی طاہرداوڑ کے افغانستان میں قتل اور لاش ملنے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ شہید ایس پی طاہر داوڑ شہید کا جسدخاکی جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے حوالے کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پشاور پولیس سے تعلق رکھنے والے افسر محمد طاہر خان داوڑ 17 روز قبل اسلام آباد کے علاقے ایف ٹین سیکٹر میں واک کرتے ہوئے غائب ہوئے تھے، اس کے بعد ان کی کچھ خبر نہیں ملی تھی۔

جس کے بعد خبریں گردش کرتی رہی کہ 27 اکتوبر کو اسلام آباد سے لاپتا ہونے والے پشاور کے ایس پی کو نامعلوم افراد نے اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا ہے، مقتول کی تشدد زدہ نعش افغان صوبے ننگرہار سے بر آمد ہوئی۔

اہلِ خانہ کے مطابق ایس پی طاہر داوڑ چھٹیوں پر تھے اور وہ ذاتی کام کے سلسلے میں اسلام آباد پہنچے تھے،جس کے بعد ان سے اچانک موبائل فون پر رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

افغان انتہا پسند تنظیم نے ایس پی طاہرداوڑ کے قتل کا اعتراف کرلیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں