site
stats
پاکستان

واشنگٹن:پاک افغان سفیروں کے درمیان مباحثےمیں تلخی

واشنگٹن : معروف امریکی پالیسی ساز ادارے کارنیگی انڈومنٹ فار پیس میں پاکستان اور افغانستان کے سفیروں کے مباحثے کے دوران کئی مواقع پر تلخی دیکھی گئی۔

افغانستان میں سفارت کاری اور سیکورٹی چیلنجز کے حوالے سے کارنیگی میں منعقد ہ مباحثے میں پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری اور افغان سفیر حمد اللہ محب کے درمیان تلخی دیکھنے میں آئی۔

افغان سفیر نے کئی مواقع پر پاکستان پر سنگین الزامات عائد کئے تاہم وہ کسی الزام کا ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے، اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ ماحول خراب کرنے کی بجائے اصل مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

افغان سفیر کی الزام تراشیوں کے جواب میں تجربہ سفارت کار اعزاز چوہدری تحمل مزاجی سے کام لیتے رہے تاہم انہوں نے باور کرایا کہ پاکستان میں بیشتر بڑے دہشت گرد حملوں کا تعلق افغانستان سے جاکر ملتا ہے۔

اس موقع پر افغان سفیر پاکستان دشمنی کا بر ملا اظہار کرتے رہے اور مطالبہ کیا کہ پاکستان افغانستان کے خدشات اور تشویش کو دور کرنے کیلئے عملی اقدامات کرے۔

افغان سفیر حمد اللہ محب کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان پاکستان سے تمام افغان مہاجرین کو واپس لینے کیلئے تیار ہے۔

اس موقع پر اعزا ز چوہدری نے پاکستان پر شدت پسند گروہوں کو پناہ دینے کے الزامات مسترد کر تے ہوئے کہا کہ پاکستان پر الزامات قربانی کا بکرا بنانے کے مترادف ہے۔ پاکستان سفیر نے عزم کا اظہار کیا کہ پر امن اور مستحکم افغانستان کیلئے پاکستان اپنا مخلصانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top