The news is by your side.

Advertisement

افغان صدر کا طالبان کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان

کابل : افغانستان کی حکومت نے افغان طالبان کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کااعلان کردیا، جس کا امریکہ نے خیر مقدم کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق افغان حکومت نے طالبان کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کااعلان کردیا، افغان طالبان کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان صدر اشرف غنی کی جانب سے کیا گیا ہے تاہم افغان حکومت کے اعلان کا طالبان نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اپنے مسائل مل کر حل کرنے ہوں گے اور اس عمل میں افغان حکومت ، طالبان اور افغانی عوام کا شامل ہونا ضروری ہے، اس لڑائی کو جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کےمطابق افغانستان میں حکومت اور افغان طالبان کے درمیان عید کےموقع پر تین روزہ جنگ بندی کی گئی تھی، جس کے دوران افغانستان میں افغان طالبان اور سرکاری فوجی اہلکاروں کو ایک دوسرے سے گلے ملتے دیکھا گیا۔

عید پرتین روزہ جنگ بندی کے دوران دارالحکومت کابل میں افغان طالبان جنگجوؤں کی وزیر داخلہ اویس برمک کے ساتھ ملاقات بھی ہو چکی ہے۔

یاد رہے کہ سیز فائز پہلے تین دن کیلئے کیا گیا تھا جوکہ سترہ جون ختم ہونا تھا،تاہم ابھی توسیعی مدت کا تعین نہیں کیا گیا ہے، صدر اشرف غنی کا کہنا تھا افغان حکومت اور طالبان کے درمیان سیز فائر کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ جنگ بندی معاہدے میں توسیع کی امید ہے۔

گزشتہ روز ننگرہار بم بلاسٹ میں چھبیس افراد جان ہلاک ہوئے تھے۔


مزید پڑھیں :  طالبان ملک میں امن قائم کرنے میں افغان حکومت کی مدد کریں، اشرف غنی 


واضح رہے کہ افغان حکومت نے عید الفطر کی آمد کے پیش نظر طالبان کے خلاف کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا تاہم ساتھ میں یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی بھی مسلح گروہ کی جانب سے دہشت گردی کی گئی تو سیکیورٹی ادارے بھرپور جواب دیں گے۔

جس کے بعد طالبان کی جانب سے بھی عید الفطر کے موقع پر تین دن کے لیے جنگی بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس جنگ بندی کا اطلاق صرف مقامی فوجیوں کے لیے ہوگا جبکہ نیٹو اور امریکی فوج نے کوئی کارروائی کی تو طالبان اس کا جواب دیں گے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں امریکی افواج کے داخل ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان کی جانب سے پہلی بار جنگ بندی کا اعلان کیا گیا جبکہ اقوامِ متحدہ، امریکا اور نیٹو کی جانب سے طالبان کے اعلان کا خیر مقدم کیا گیا ہے تاہم کچھ حلقے حکومت اور مسلح افراد کے اس اعلان کو خفیہ معاہدہ بھی قرار دے رہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں