The news is by your side.

Advertisement

امن تب ہوگا جب طالبان انتشار پھیلانا بند کریں گے: افغان صدر

کابل: امریکا کی جانب سے افغان امن مذاکرات کی منسوخی کے اعلان پر افغان صدر اشرف غنی نے ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن تب ہوگا جب طالبان انتشار پھیلانا بند کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے امن مذاکرات کی منسوخی پر کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے انتشار پھیلانا بند ہوگا تو ملک میں امن قایم ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن تب آئے گا جب طالبان افغان حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کریں گے۔

واضح رہے کہ آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کابل حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد طالبان کے ساتھ امن مذاکرات منسوخ کر دیے ہیں، انھوں نے یہ اعلان سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹویٹر پر کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکا نے افغان طالبان سے امن مذکرات معطل کردیے

امریکی صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ طالبان سے مذاکرات کابل حملے کے بعد منسوخ کیے گئے ہیں جس میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ طالبان نے کابل حملے کی ذمہ داری قبول کی، افغان طالبان کتنی دہائیوں تک جنگ لڑنا چاہتے ہیں؟

کابل حملے کے بعد کیمپ ڈیوڈ میں افغان صدر اور طالبان رہنماؤں کے درمیان ہونے والی خفیہ ملاقاتیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔ کیمپ ڈیوڈ میں طالبان رہنماؤں اور افغان صدر سے الگ الگ ملاقاتیں آج ہونا تھیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز افغان صدر اشرف غنی امریکا کا دورہ کرنے والے تھے لیکن انھوں نے کابل حملے کے بعد دورہ منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا تھا اور کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات بے معنی ہیں، طالبان گروپ بدستور بے گناہ لوگوں کو قتل کر رہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں