اسلام آباد (26 ستمبر 2025): وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں موجود پانچ افغان مہاجرین کیمپس بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
وزارت امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران نے افغان مہاجرین کیمپس کی بندش کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس میں کیمپس کی زمین صوبائی حکومت اور متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔
واضح رہے کہ بند کیے گئے افغان مہاجرین کیمپس میں تین ڈسٹرکٹ ہری پور، ایک ایک ڈسٹرکٹ چترال اور دیر اپر میں تھے، 40 سال پرانے ہری پور کے پنیان کیمپ میں 1 لاکھ سے زائد مہاجرین رہائش پذیر تھے۔
یو این ایچ سی آر کے مطابق اس وقت افغان مہاجرین کی زیادہ تعداد خیبر پختونخوا میں ہے۔
4 فروری 2025 میں وفاقی حکومت نے رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو بھی واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس سے تمام سفارتخانوں اور افغان سفارتخانے کو بھی خط ارسال کر دیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ دوسرے مرحلے میں پروف آف رجسٹریشن رکھنے والے افغان باشندوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی سے نکالا جائے گا مگر انہیں فوری طور پر بے دخل نہیں کیا جائے گا۔
وفاقی کابینہ نے پی او آر رکھنے والے افغان باشندوں کو جون تک پاکستان میں رہنے کی اجازت دے رکھی ہے۔
پاکستان میں پی او آر اور اے سی سی رکھنے والے افغان باشندوں کی مجموعی تعداد تقریباً 20 لاکھ ہے جن میں سے 13 لاکھ پی او آر اور 7 لاکھ اے سی سی کے حامل ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


