site
stats
پاکستان

افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل جاری

afghan refugee

اسلام آباد: پاکستان میں کئی سالوں سے آباد افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل جاری ہے ‘ لاکھوں افغان شہری واپس اپنے وطن پہنچ چکے ہیں‘ افغان مہاجرین 1979 کے بعد سے پاکستان میں آباد ہیں۔

تفصیلات کے مطابق افغان مہاجرین کی وطن واپسی کاعمل جاری ہے اب تک 14لاکھ 10ہزار افغان مہاجرین اپنے وطن واپس پہنچ چکے ہیں ۔ واپس جانے رجسٹرڈ مہاجرین کو دو سو ڈالر فی کس وطن واپسی کے لیے دیا جارہاہے ۔

وزارت سیفران کے حکام کے مطابق پاکستان میں قیام پذیر افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل جاری ہے ‘ وطن واپس جانے والے رجسٹرڈ مہاجرین وطن واپسی سے قبل یو این ایچ سی آرسے رابطہ کرکے وطن واپسی کی تاریخ ملنے کے بعد یو این ایچ سی آر کے وطن واپسی کے مراکز سے رابطہ کررہے ہیں۔

یواین ایچ سی آر کے مطابق افغان مہاجرین کی واپسی 3 اپریل سے دوبارہ شروع ہورہی ہے،4 ماہ کے تعطل کے بعد واپسی کامرحلہ شروع ہورہا ہے، بلوچستان اورخیبرپختونخوا ہ میں قائم دو مراکز سے افغان مہاجرین کی واپسی ہوگی۔

پاکستان میں موجود افغان مہاجرین


ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق، گذشتہ 4 سال کے دوران پاکستان 10 لاکھ سے زائد مہاجرین کی میزبانی کرچکا ہے۔

2016 کےآخری نصف حصے میں ملک بدری کی دھمکیوں اور پولیس کی بدسلوکی کی وجہ سے 15 لاکھ رجسٹرڈ مہاجرین میں سے 3 لاکھ 65 ہزار افراد افغانستان واپس گئے اور اسی دوران 10 لاکھ غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین میں سے 2 لاکھ افغان مہاجرین بھی وطن واپس پہنچے۔

یاد رہے 4 سال قبل اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دس لاکھ کے قریب افغان مہاجرین ہیں جس میں سے نصف خیمہ بستیوں میں مقیم ہیں۔

سڑسٹھ فیصد افغان باشندے رجسٹرڈ ہیں اور بیاسی فیصد افراد پشتو بولتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پچپن فیصد مہاجرین دیہاڑی دار مزدور ہیں جبکہ کاروبار کرنے والوں نے پاکستان میں اٹھارہ ارب روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

دس فیصد افغان مہاجرین کو سمندر پار رشتے داروں سے ماہانہ اٹھائیس لاکھ ڈالر ملتے ہیں۔ شرح خواندگی تینتیس فیصد ہے جبکہ اسکولوں میں داخلے کی شرح اکسٹھ فیصد ہے۔ ایک سو اٹھہتر افغان مہاجرین مختلف جیلوں میں قید ہیں جبکہ تین سو چھپن لاپتہ ہیں۔ سولہ فیصد مہاجرین نے واپس جانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال
پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top