افغانستان میں سیکیورٹی فورسزاورطالبان میں جھڑپ، 73 طالبان ہلاک -
The news is by your side.

Advertisement

افغانستان میں سیکیورٹی فورسزاورطالبان میں جھڑپ، 73 طالبان ہلاک

کابل: افغان صوبے فریاب میں سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپوں میں مبینہ طور پر 73 طالبان ہلاک جبکہ 31 زخمی ہوئے ہیں، دو طالبان کمانڈر بھی حملے میں مارے گئے ہیں۔

افغان وزارتِ دفاع کے مطابق دہشت گردوں نے 350 سیکیورٹی اہلکاروں پر مشتمل ایک کانوائے کو گھیرے میں لے لیا تھا، جسے بچانے کے لیے طالبان کے خلاف فضائی اور زمینی آپریشن کیا گیا ۔

افغان آرمی کے علاقائی ترجمان کا کہنا ہے کہ اس مقابلے میں طالبان کے دہ اہم کمانڈرز ملا شاہ ولی اور ملا قیوم کے مارے گئے ہیں جبکہ مزید دو کمانڈرز کے مارے جانے کی اطلاع بھی ہے جن کے نام تاحال معلوم نہیں ہوسکے ہیں۔

علاقے میں بھاری تعداد میں زمینی فورسز تعینات ہیں جن کا مقصد علاقے میں کسی ممکنہ جھڑپ کی صورت میں فضائی حملوں کو مدد فراہم کرنا ہے۔ دوسری جانب طالبان نے تاحال اس معرکے پر اپنا کوئی بھی موقف پیش نہیں کیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے افغان طالبان نے اپنی کارروائیوں کا دائر ہ کار افغانستان کے متعدد علاقوں میں پھیلا دیا ہے اور عید الاضحیٰ کے موقع پر افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے جنگ بندی کی مشروط پیشکش کو بھی مسترد کردیا تھا۔

طالبان کا مطالبہ ہے کہ وہ 17 سال سے جاری اس جنگ کے لیے افغان حکومت کےبجائے براہ راست امریکی حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں گے کہ وہی اس جنگ کا اصل محرک ہیں۔

دو ہفتے قبل افغانستان کے شمالی صوبے بغلان میں آج دوپہر سیکیورٹی اداروں کے عبداللہ بیس کیمپ پر طالبان کے شدت پسندوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 45 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ۔افغان حکام کا کہنا تھا کہ طالبان کے حملے میں 35 افغانستان کی مسلح افواج کے اہلکار جبکہ 10 مقامی پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

اس واقعے سے ایک روز قبل افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک خودکش بمبار نے الیکشن کمیشن کی عمارت میں گھسنے کی کوشش کی اور مرکزی دروازے پر سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے روکے جانے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں