پیر, مئی 18, 2026
اشتہار

افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان میں عوامی سطح پر تحریکیں زور پکڑنے لگیں

اشتہار

حیرت انگیز

کابل(16 اپریل 2026): افغانستان میں طالبان دورِ حکومت کی انتہا پسندانہ سوچ اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف عوامی سطح پر مزاحمتی تحریکیں زور پکڑنے لگی ہیں۔

ملک کے اندر اور باہر سے طالبان کی جابرانہ پالیسیوں کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں، جن کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات نے افغانستان کو عالمی تنہائی میں دھکیل دیا ہے اور عوامی نفرت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

افغان میڈیا ‘افغان انٹرنیشنل’ کے مطابق نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے رہنما احمد مسعود نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کا ظالمانہ دور اب ختم ہونے کے قریب ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طالبان کے تسلط کے خلاف تمام عوامی تحریکوں کا اتحاد اور ہم آہنگی ہی بہترین حکمت عملی ہے۔

احمد مسعود نے طالبان کا کوئی متبادل نہ ہونے کے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے اسے انتشار پھیلانے کی ایک منظم سازش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف افغان سیاسی گروہ طالبان رجیم کے خلاف بنیادی اصولوں پر متفق ہو چکے ہیں اور ان کی اصل طاقت عوام ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ طالبان کے سازشی پروپیگنڈے میں نہ آئیں۔

دوسری جانب سیاسی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان نے عوامی مینڈیٹ کے بجائے بندوق کے زور پر اقتدار حاصل کیا، جسے دنیا کا کوئی بھی قانون جائز قرار نہیں دیتا، اسی لیے یہ ایک غیر قانونی رجیم ہے۔

ماہرین کے مطابق طالبان حکومت کی ناکامی اور شدت پسند عناصر کی مبینہ سرپرستی کے خلاف افغان عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جو کسی بھی وقت بڑی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں