The news is by your side.

Advertisement

امریکی فوجیوں کیلئے مترجم کی خدمات انجام دینے والے افغانیوں کی مشکل آسان

واشنگٹن : امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ افغانستان میں مسلح افواج کے ساتھ مترجم کا کام کرنے والے افغانیوں کو ورجینیا کے فوجی اڈے پر پناہ دی جائے گی۔

اپنے ایک بیان میں نیڈ پرائس نے بتایا کہ افغان مترجموں اور ان کے اہل خانہ سمیت ڈھائی ہزار افغانیوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جائیں گی۔ امریکی حکام کے مطابق جن مترجموں اور ان کے اہل خانہ کی جانچ پڑتال مکمل ہوگئی ہے ان تمام اہل افراد کو آئندہ 10 روز میں اس مقام پر منتقل کردیا جائے گا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ جن افغانیوں نے جنگ میں امریکا کی مدد کی تھی ہم انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ جو بائیڈن کا کم از کم 18،000 افغان شہریوں اور ان کے اہل خانہ کو امریکہ میں تارکین وطن کے طور پر قبول کرنے کا کہا تھا۔

کہا جارہا ہے کہ ان مترجموں کو امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد طالبان سے انتقامی کارروائیوں کا خطرہ ہے۔

محکمہ خارجہ کی ترجمان نیڈ پرائس نے پیر (19 جولائی) کو واشنگٹن میں ایک نیوز کانفرنس میں تصدیق کی ہے کہ پہلے مرحلے میں ، تقریبا25سو افغانی مترجم اور ان کے خاندانوں کو قلیل مدتی رہائش کے لئے امریکہ منتقل کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب افغانی امیگریشن کے خصوصی عمل کے آخری مراحل کو مکمل کرتے ہیں تو انہیں عارضی رہائش فراہم کی جائے گی۔

جو بائیڈن نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ مہاجرین کے پہلے گروپ کو ماہ کے آخر تک افغانستان سے باہر منتقل کردیا جائے گا لیکن ان کے سرکاری عہدیداروں نے اس منصوبے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

امریکی کانگریس کے متعدد ممبروں نے حال ہی میں جو بائیڈن کو متنبہ کیا تھا کہ اگر وہ ہزاروں افغان مترجمین کو بروقت نکالنے میں ناکامی ہوئی تو طالبان کے ہاتھوں مارے جانیوالے افراد کا خون ان(بائیڈن) کے ہاتھ پر ہوگا۔

فلوریڈا کے رکن پارلیمنٹ مائیکل والٹز نے جو بائیڈن کو بدھ (16 جون) کو بتایا کہ اگر انہوں نے افغانستان چھوڑنے سے قبل گذشتہ دو دہائیوں سے امریکہ کے لئے کام کرنے والے ہزاروں افغان مترجموں کو ملک سے نہیں نکالا تو ان کے ہاتھ خون سے داغدار ہوں گے۔

مسٹر والٹز ماضی میں امریکی فوج کے ایک کمانڈو یونٹ کے ساتھ افغانستان میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کچھ مترجموں کو جانتے ہیں۔ انہوں نے بائیڈن انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تقریبا 18،000 افغانوں کی امیگریشن ویزا درخواستوں پر بلاتاخیر غور کریں۔

اتحادی افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد افغان مترجمین نے ریلیاں نکالی اور اعلان کیا کہ اگر انخلا کے بعد ستمبر تک انہیں اور ان کے اہل خانہ کو منتقل نہیں کیا گیا تو ان کی جان کو خطرہ ہوگا۔

مبینہ طور پر متعدد افغان مترجمین کو امریکی فوجیوں اور ان کے اتحادیوں کی مدد کرنے پر طالبان نے ہلاک کیا جاچکا ہے۔ امریکی قانون سازوں کو تشویش ہے کہ ان افراد اور ان کے کنبوں کو زیادہ سے زیادہ نشانہ بنایا جائے گا۔

دوسری جانب طالبان کا کہنا ہے کہ اگر مترجمین دشمن کی صفیں چھوڑ دیں اور اپنے ہی ملک میں عام لوگوں کی طرح زندگی گزارنا چاہیں تو انہیں خطرہ نہیں ہوگا۔

طالبان نے یہ بھی متنبہ کیا کہ مترجمین کو اپنے ماضی پر افسوس کا اظہار کرنا چاہئے اور مستقبل میں کوئی ایسا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہئے جس کو اسلام اور ملک کے ساتھ غداری کہا جائے۔

 

Comments

یہ بھی پڑھیں