The news is by your side.

Advertisement

افغانستان: تاریخی امن معاہدے کے باوجود حملے جاری، 98 افغان فوجی ہلاک

کابل: امریکا اور طالبان کے درمیان تاریخی امن معاہدے کے باوجود افغانستان میں دہشت گردانہ حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک بھر میں 98 افغان سیکیورٹی فورسز ہلاک ہوئے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے افغانستان کے مختلف صوبوں میں 98 اہلکاروں کی اموات ہوئیں، کئی شدت پسندوں سے مقابلے میں مارے گئے جبکہ متعدد بم حملوں میں ہلاک ہوئے۔

افغان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر پولیس اہلکاروں اور فوج پر حملوں کے نتیجے میں طالبان کو بھی شدید جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

طالبان نے افغان صدر کی رمضان میں سیز فائر کی اپیل مسترد کردی

رپورٹ کے مطابق 18 سے 24 اپریل تک طالبان نے افغانستان کے 14 صوبوں کو نشانہ بنایا۔ مذکورہ حملوں میں 70 سے زائد اہلکار شدید زخمی بھی ہوئے اور 10 تاحال لاپتہ ہیں۔

مقامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں تاخیر بھی حملوں کا سبب بن رہی ہے۔ فریقین کے درمیان کئی نقطوں پر ڈیڈ لاک اب تک برقرار ہے۔

ادھر افغان طالبان نے رمضان میں افغان صدر اشرف غنی کی سیز فائر کی اپیل مسترد کردی، ترجمان طالبان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ افغان صدر کی اپیل حقیقی اور قائل کرنے والی نہیں، ہزاروں قیدیوں کو کرونا وائرس کے باعث خطرے میں ڈالا گیا، امن عمل، امریکا طالبان معاہدے کے نفاذ میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں