The news is by your side.

Advertisement

افغان صدر کے بیان پر محسن داوڑ‌ کا اظہارِ‌ تشکر، پی ٹی ایم اور افغانستان کا خفیہ گٹھ جوڑ بے نقاب

اسلام آباد: افغانستان کے صدر پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے لگے جس پر پشتون تحفظ موؤمنٹ کے رہنماء اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے اُن کا شکریہ ادا کیا۔

تفصیلات کے مطابق افغان صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پاکستان کے اندورنی معاملات پر ایک ٹویٹ کرتے ہوئے پی ٹی ایم سے ہمدردی کا مظاہرہ کیا۔

وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمد قریشی نے اشرف غنی کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اُن پر شدید تنقید کی اور مشورہ دیا کہ افغان صدر اپنے ملک کے اندرونی معاملات اور عوام کے لیے اقدامات کریں۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیری مزاری، پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان اور سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے بھی افغان صدر کی بیان بازی پر شدید تنقید کی۔

دوسری جانب پشتون تحفظ موومنٹ کے سرکردہ رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے پاکستان مخالف ٹویٹ پر افغان صدر کا شکریہ ادا کیا اور اشرف غنی پر تنقید کرنے والے پائے کے سیاسی رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی ایم رہنماؤں کی پارٹی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی، نائب افغان سفیر سے ملاقات

مزید: ایس پی طاہر داوڑ کی میت حوالگی میں تاخیر کیوں ہوئی؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی

دفاعی تجزیہ کار محمود شاہ کا کہنا تھا کہ محسن داوڑکاٹوئٹ سفارتی آداب کی خلاف ورزی ہے کیونکہ دفترخارجہ اور وزیرخارجہ  نے بھی افغان صدر کےبیان کومستردکیا، غیرملکی حکومتوں نے پی ٹی ایم  کی شکل میں پاکستان کے خلاف نئی سازش تیار کرلی ہے۔

علاوہ ازیں دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی ایم ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کررہی ہے، پہلے سےشک تھا پی ٹی ایم کو غیر ملکی عناصر کی پشت پناہی حاصل ہے مگر اب اس کا یقین ہوتا جارہا ہے‘۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پی ٹی ایم کے رہنماؤں اور اراکین قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر نے نائب افغان سفیر سے ملاقات کی تھی، علاوہ ازیں ایس پی طاہر داوڑ کی میت حوالگی کے وقت بھی محسن داوڑ کا کردار مبینہ طور پر مشکوک نظر آیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں