The news is by your side.

افغانستان : مدرسہ دھماکے سے لرز اٹھا، 10 طلباء سمیت 15 جاں بحق

کابل : افغانستان کے شمالی شہر ایبک کے ایک مدرسے میں بدھ کو ہونے والے دھماکے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور 24 زخمی ہوگئے۔

طالبان کی عبوری حکومت سے وابستہ امور داخلہ کے ترجمان عبدالنفی تاکور نے کہا ہے کہ سمنگان کے مرکز میں واقع ایبک نامی قصبے میں موجود مدرسے میں نماز ظہر کے دوران شدید دھماکہ ہوا جس میں دس طلبہ سمیت 15 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ دھماکے کی ذمے داری فی الحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دارالحکومت کابل سے تقریباً 200 کلومیٹر شمال میں واقع ایبک میں ایک ڈاکٹر نے میڈیا کو بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر نوعمر لڑکے تھے۔

انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ سب بچے اور عام لوگ ہیں، ایک صوبائی اہلکار نے مدرسے میں ہونے والے دھماکے کی تصدیق کی تاہم وہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار فراہم نہیں کرسکے۔

طالبان نے کہا ہے کہ دھماکے میں 10 طلباء ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے ٹویٹ کیا کہ ہماری جاسوسی اور سیکورٹی فورسز اس ناقابل معافی جرم کے مرتکب افراد کی شناخت اور انہیں ان کے اعمال کی سزا دینے کے لیے تیزی سے کام کر رہی ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال اگست میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک درجنوں دھماکے اور دہشت گردی کے حملے ہوچکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر ذمہ داری داعش کے مقامی گروپ نے قبول کی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں