The news is by your side.

Advertisement

بھارت جانیوالی افغانی مصنوعات کیلئے سرحدوں کو بند نہیں کیا، پاکستان

اسلام آباد : پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان نے واہگہ باڈر کے ذریعے انڈیا برآمد کی جانے والی افغانستان کی مصنوعات کے لیے اپنی بندرگاہوں اور سرحدوں کو بند نہیں کیا ہے۔

ترجمان نفیس زکریا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہم افغان عوام کے ساتھ اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوئے تجارتی راہداری میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ معاہدے کے تحت انڈیا کی مصنوعات پاکستان کے راستے افغانستان برآمد نہیں کی جا سکتی ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کی وزارتِ تجارت کے ترجمان محمد اشرف کا کہنا ہے کہ افغان مصنوعات کے لیے واہگہ باڈر بند نہیں ہوا ہے۔

محمد اشرف نے بتایا کہ افغان پاکستان تجارتی راہداری کے منصوبے کے تحت افغانستان کی برآمدی مصنوعات پاکستان کے واہگہ باڈر کے ذریعے انڈیا جاتی ہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ پاکستان نے واہگہ بارڈر سے افغان اشیاء لے جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ انہوں نے پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے پابندی کے بعد افغانستان بھی پاکستانی مال بردار گاڑیوں کے افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ممالک جانے پر پابندی عائد کر دے گا۔

افغان صدارتی محل کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وسطی ایشیائی ریاستوں میں جانے والی پاکستانی مال گاڑیوں کو ملک سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے یہ اعلان پاکستان کی جانب سے افغانستان کی مصنوعات خاص طور پر میوہ جات واہگہ بارڈر سے انڈیا برآمد پر پابندی کے ردِ عمل میں کیا ہے۔

افغانستان کے صدارتی محل کے ایک ترجمان شاہ حسین مرتضوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے چمن بارڈر کو اس وقت بند کیا جب میوہ جات برآمد کرنے کا وقت تھا۔ انہوں نے کہا کہ چمن باڈر بند ہونے کے سبب افغانستان کے تاجروں کو بہت نقصان ہوا تھا۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں