ہفتہ, فروری 7, 2026
اشتہار

افغانستان کا معاملہ: ترک صدر کا دوٹوک مؤقف سامنے آگیا

اشتہار

حیرت انگیز

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک افغان تارکین وطن کی ذمہ داری اٹھائے، ہمارا یورپ کا ‘مہاجر اسٹوریج یونٹ’ بنے کا کوئی ارادہ نہیں اور نہ ہی یہ ہماری ذمہ داری ہے۔

ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اردوان نے کہا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان سے فرار ہونے والے تارکین وطن کی یورپ ذمہ داری لے، ہم جب اپنی سرحدیں بند کردیتے ہیں اور غیرقانونی تارکین وطن کو واپس بھیج دیتے ہیں تو پھر یہ ان پر منحصر ہوتا ہے وہ جہاں جائیں۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ طالبان سے مشترکہ ایجنڈے پر مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد صورت حال کشیدہ نظر آتی ہے۔ کئی شہری ملک چھوڑنا چاہتے ہیں، متعدد افغان باشندوں کو بیرون ملک منتقل کردیا گیا ہے۔

طالبان نے چین کو خوش آمدید کہہ دیا

ادھر برطانیہ نے تقریباً 20 ہزار افغانیوں کا اپنے ملک میں پناہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ علاوہ ازیں دربدر ہونے والے سیکڑوں افغانی پناہ کی تلاش میں یورپ اور امریکا سمیت دیگر ممالک پر اپنی نگاہیں جمائے بیٹھے ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں