ڈی جی آئی ایس پی احمد شریف چوہدری آر نے کہا ہے کہ افغانستان سے بڑے پیمانے پر منشیات کےپی، وادی تیراہ اسمگل ہوتی ہے۔
صحافیوں سےغیررسمی گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ وادی تیراہ میں دہشتگردی "پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسس” کی وجہ سے ہے، خیبر اور تیراہ میں تقریباً 12 ہزار ایکڑ رقبے پر منشیات کاشت کی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ منشیات سے ہونے والی کمائی کا ایک حصہ خوارج کے حصے میں آتا ہے، منشیات کا پیسہ غیرقانونی دھندے اور دہشتگردی کے فروغ میں استعمال ہوتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چوہدری نے مزید کہا کہ منشیات کی کاشت کرنے والوں کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے
انھوں نے کہا کہ اسی گٹھ جوڑ کی وجہ سے تیراہ میں آپریشن کی مخالفت کی جاتی ہے، رواں سال خیبر ڈسٹرکٹ میں 198 افراد شہید اور زخمی ہوئے۔
احمدشریف چوہدری نے کہا کہ دہشت گرد عشرکے نام پر ٹیکس لیتے ہیں، کالعدم ٹی ٹی پی نے افغان طالبان کے امیر کے نام پر بیعت کی ہے، کالعدم ٹی ٹی پی افغان طالبان کی شاخ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کو حفاظتی حصار دیتے ہیں، افغان طالبان فتنہ الخوارج دہشت گردوں گنجان آبادعلاقوں میں بسا رہے ہیں۔
غزہ امن فوج کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کرے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر


