site
stats
پاکستان

چمن فائرنگ واقعے، افغانستان نے پاکستان کا 50افغان فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ مسترد کردیا

اسلام آباد : افغان سفیر نے چمن واقعے میں پاکستان کی جانب سے 50 فوجیوں کی ہلاکت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی میں 50کے بجائے 2 فوجی جوانوں کا نقصان بھی بہت بڑا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں سفیر عمر زخیلوال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں گزشتہ روز آئی جی ایف سی کی جانب سے چمن فائرنگ واقعے سے متعلق 50 افغان فوجیوں کی ہلاکت اور 100 سے زائد زخمیوں کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں جھڑپوں کے دوران ہمارے 50 نہیں صرف 2 فوجی مارے گئے جبکہ 7 فوجی شدید زخمی ہوئے۔

افغان سفیر کا مزید کہنا تھا کہ جھڑپوں میں 2 فوجی جوانوں کا نقصان بھی بہت بڑا نقصان ہے جبکہ پاکستان اور افغانستان دونوں ایک دوسرے کے لئے بہت اہم ہیں۔

افغان سیفر نے کہا کہ اگر اچھے دوطرفہ تعلقات استوار کرنے سے متعلق ہماری خواہش حقیقت پر مبنی ہے اور ہم ایک دوسرے کے لیے اچھا سوچتے ہیں تو دو زندگیاں بھی بہت اہم ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ چمن میں جھڑپ سے پاکستان کی جانب بھی جانی نقصان ہوا، ہمیں اس پر جشن منانے کی بجائے اسے بدقسمت اور افسوسناک قرار دینا چاہیئے۔


مزید پڑھیں : جوابی کارروائی میں 50 افغان فوجی ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے، آئی جی ایف سی


واضح رہے کہ گزشتہ روز آئی جی ایف سی میجر ندیم کی جانب سے کہا گیا تھا کہ افغان فورسز کی جانب سے چمن میں جارحیت کے جواب میں 50 سے زائد افغان فوجی مارے گئے جبکہ100 سے زائد زخمی ہوئے اور 5 پوسٹیں تباہ کردی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے برے وقت میں افغانستان کا ساتھ دیا ہے اور افغان فورسز کے جانی نقصان پر ہمیں دکھ بھی ہے لیکن پاکستان کی سالمیت اور پاک سرزمین کے ایک ایک انچ کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے اسی طرح سرحدی علاقوں میں کسی بھی قسم کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔


مزید پڑھیں : چمن : افغان فورسز کی گولہ باری و فائرنگ،10 شہری شہید، 45زخمی


واضح رہے کہ جمعہ کے روز پاکستانی صوبہ بلوچستان کے سرحدی ضلع چمن میں افغان سرحد کے قریب واقعہ دو گاؤں کلی لقمان اور کلی جہانگیر میں افغان فورسز نے مردم شماری ٹیم پر فائرنگ اور گولہ باری کی ، جس کے نتیجے میں 10 شہری شہید اور45 زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان نے اس واقعہ کے بعد چمن سرحد بند کر دی تھی۔

تاہم دونوں ممالک کے ڈٓائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطے اور سرحدی کمانڈروں کی فلیگ میٹنگ کے بعد فائرنگ و گولہ باری کا تبادلہ رک گیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top