The news is by your side.

Advertisement

انس حقانی سمیت تین سینئر طالبان رہنماؤں کی رہائی

کابل: افغان حکام نے دو غیرملکی مغوی پروفیسروں کے بدلے انس حقانی سمیت تین سینئر ترین طالبان رہنماؤں کو رہا کردیا۔

تفصیلات کے مطابق طالبان کے ہاتھوں اغوا کیے گئے پروفیسروں کا تعلق آسٹریلیا اور امریکا سے ہے، جن کی رہائی کے بدلے حکام نے انس حقانی سمیت تین طالبان جنگجوؤں کو آزاد کیا، طالبان رہنما بگرام جیل میں قید تھے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے طالبان رہنماؤں کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگجوؤں کی رہائی کا مقصد مذاکرات کے لیے راہیں ہموار کرنا ہے۔ رہا پانے والے رہنماؤں میں انس حقانی، حاجی ملک اور حافظ رشید شامل ہیں جنہیں 2014 میں اہم کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

انس حقانی کمانڈر سراج الدین حقانی کا بھائی ہے، اس کا شمار حقانی نیٹ ورک کے سرکردہ رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

امریکی پروفیسر کا نام کیون کنگ اور آسٹریلوی پروفیسر کا نام ٹموتھی ویکز ہے جو کابل میں امریکی یونی ورسٹی کے اساتذہ تھے اور 2016 میں انہیں کابل میں امریکی یونی ورسٹی کے باہر سے اغوا کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ رواں سال جولائی میں امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی تھی جس کے بعد 200 سے زائد طالبان جنگجوؤں کی رہائی عمل میں آئی تھی۔

زلمے خلیل زاد کی افغان صدر سے ملاقات، درجنوں‌ طالبان جنگجوؤں کی رہائی

یاد رہے کہ رواں سال ستمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات منسوخ کردیے تھے۔ انہوں نے یہ اعلان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیا تھا، ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ طالبان سے مذاکرات کابل حملے کے بعد منسوخ کیے گئے ہیں جس میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں