The news is by your side.

Advertisement

افریقی کپتان، کوئنٹن ڈی کوک کے مؤقف پر حیران

جنوبی افریقی کپتان ٹیمبا باووما کا کہنا ہے کہ ساتھی کرکٹر کوئنٹن ڈی کوک کا انسداد نسل پرستی کی تحریک میں شامل ہونے سے انکار کرنا حیرت انگیز عمل تھا۔

تفصیلات کے مطابق پروٹیز کپتان ٹیمبا باووما نے صحافیوں کو بتایا کہ ساتھی کرکٹر کوئنٹن ڈی کوک کا گھٹنے کے بل بیٹھ کر انسداد نسل پرستی کی تحریک میں شامل ہونے سے انکار کرنا حیرت انگیز ہے اور یہ ان کے لیے بطور کپتان مشکل ترین دنوں میں سے ایک تھا۔

ٹیمبا باووما نے کوئنٹن کو عظیم کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف ایک بلے باز بلکہ بطور سینئر کھلاڑی بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا ہے، بحیثیت کپتان میرے اختیار میں اس کا نہ ہونا واضح طور پر ایسی چیز تھی جس کا میں منتظر نہیں تھا۔

ٹیمبا باووما جنہیں مختصر فارمیٹ میں ڈی کوک کی جگہ کپتان مقرر کیا گیا تھا اور وہ جنوبی افریقی ٹیم کے پہلے سیاہ فام کپتان ہیں، جنہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں دبئی میں بس کے سفر کے دوران ڈی کوک کے فیصلے کا علم ہوا۔

انہوں نے کہا کہ بورڈ کی طرف سے ‘گھنٹے کے بل بیٹھنے’ کی ہدایت صبح آئی تھی، بورڈ کے چند اراکین کا اجلاس ہوا اور وہاں سے یہ پیغام ہمیں موصول ہوا تھا، میرے خیال سے یہ ڈیڑھ، دو گھنٹے کا ٹرپ تھا، شاید اس ٹرپ میں کوئنٹن ڈی کوک نے واپس جانے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: گھٹنے پر بیٹھنے سے انکار، ڈی کوک ٹیم سے باہر

ٹیمبا باووما نے کہا کہ کوئنٹن ایک عقلمند اور ثابت قدم شخص ہیں، ہم ان کے فیصلےاور عقیدے کا احترام کرتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ انہوں نے جو فیصلہ لیا ہے وہ اس پر ثابت قدم رہیں گے۔

واضح رہے کہ جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ کی جانب سے کھلاڑیوں کو انسداد نسل پرستی کی تحریک کی حمایت کرنے کے احکامات کی خلاف ورزی پر ڈی کوک کو میچ سے باہر کردیا گیا تھا۔

سابق کپتان نے تحریک کی حمایت میں گھنٹے پر بیٹھنے کے بجائے میچ سے باہر ہونے کا انتخاب کیا، ڈی کوک اس سے قبل بھی انسداد نسل پرستی کی تحریک میں حصہ لینے سے انکار کرچکے ہیں، یہ تحریک بیشتر کھیلوں میں عام بن چکی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں