جمعرات, اپریل 16, 2026
اشتہار

اہلِ‌ افریقہ اور دانش وروں کی گمراہ کی ہوئی دنیا

اشتہار

حیرت انگیز

دنیا کے خطّہ ہائے زمین کی خانہ بندی بڑی طاقتوں کی سیاسی حکمتِ عملی کے تحت مختلف اوقات میں مختلف انداز میں ہوتی رہی ہے۔ مشرق اور مغرب پہلی دوسری اور تیسری دنیا، شمال اور جنوب، ترقی یافتہ ترقی پذیر اور پس ماندہ ممالک وغیرہ وغیرہ۔

موٹے طور پر جابر طاقتوں اور مجبور ملکوں کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ایشیا، افریقہ اور بڑی حد تک لاطینی امریکہ کے ملکوں کا شمار مجبور ملکوں میں اور بقیہ دنیا ان طاقت ور ملکوں کے زمرے میں آتی ہے جس کے اشارۂ چشم و ابرو پر دنیا کا کاروبار چلتا چلا آرہا ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ایک زمانے سے دنیا کے غریب ملک غریب سے غریب تر اور دولت مند ملک امیر سے امیر تر ہوتے چلے گئے۔ پس ماندہ ملکوں کا صرف یہی المیہ نہیں کہ ان کے مادّی وسائل دولت مند ملکوں کی تجوریاں بھرتے رہے بلکہ ان کی تہذیبی، ثقافتی اور ادبی شناخت پر بھی دولت مند ملکوں کی سیاسی حکمتِ عملی کی سیاہ چادر پڑی رہی اور اس سیاہ چادر پر سفید چاک سے ان کی اس مسخ شدہ شناخت کے نقش و نگار بنتے گئے جو ترقی یافتہ ملکوں کی اندھی تقلید سے عبارت تھی۔

اسی سیاق میں تہذیب و ادب کے عنوان سے اردو کے معروف بزرگ ترقی پسند ادیب اور شاعر احمد ندیم قاسمی کا ایک مضمون اس مسئلے پر شائع ہوا جس میں اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ نو آبادیاتی طاقتوں نے افریقہ کے بارے میں اپنی ایشیائی کالونیوں کے باشندوں کی رائے کو کس طرح متاثر کیا ہے۔ احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں:

ہم سب جانتے ہیں کہ قوموں کی پہچان ان کی تہذیبیں ہوتی ہیں اور کسی بھی قوم کی تہذیب کا سرِ عنوان اس کے معتقدات اور نظریات کے علاوہ اس کی شاعری، اس کا ادب، اس کی مصوری اور اس کی موسیقی ہے۔ ہم سالہا سال تک بدنصیبی کا شکار رہے کہ ہم اپنے آس پاس کی قوموں سے تاریخ کی صرف ان کتابوں کے ذریعے متعارف ہوتے رہے جو بیشتر ان قوموں پر مسلط رہیں۔ ان ملکوں کے بہ کارِ خویش ہشیار قسم کے دانشوروں نے یہ کتابیں اس مقصد کے تحت لکھی تھیں کہ ان قوموں کے منفرد تہذیبی تشخص سے ساری دنیا بے خبر رہے، بلکہ ان کتابوں سے دنیا کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیا جائے کہ ان محکوم و مجبور قوموں کی اپنی کوئی تہذیب تو ہے نہیں اور یورپ محض بر بنائے خدا ترسی انھیں تہذیب سکھانے اور انسان بنانے آیا ہے۔ قریب قریب پورا ایشیا اور پورا افریقہ مغربی سامراج کی اس بدسلوکی کا شکار رہا ہے۔

نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ ہم ایشیائی لوگ لندن، پیرس، واشنگٹن اور نیو یارک کی سڑکوں کے بارے میں تو اتنی مفصل معلومات رکھتے ہیں جیسے یہ ہمارے محلّے کی سڑکیں اور گلیاں ہوں اور وہاں کے باشندوں کے مزاج و کردار اور تہذیب و تمدن سے اس حد تک متعارف ہیں جیسے اڑوس پڑوس کے لوگ ہوں اور نہیں جانتے تو نیروبی کے بارے میں اور اس لیے نہیں جانتے کہ ہمیں تعلیم ہی یہ دی گئی ہے کہ افریقہ کے لوگ تو وحشی ہوتے ہیں اور وحشیوں کے ہاں تہذیب نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ مغرب کے مؤرخین نے ہمیں پڑھایا سکھایا تھا کہ افریقہ ایک Dark Continent یعنی تاریک براعظم ہے اور اسے تاریک دراصل وہاں کے باشندوں کی جلد کی رنگت کی وجہ سے کہا گیا تھا۔ افریقہ کو دوسری دنیا ہی سے نہیں خود افریقہ سے بھی چھپایا جاتا رہا۔ پورے افریقہ کو اپنی نوآبادیوں میں بدل دینے والوں نے وہاں کی آبادی کو التزاماً تعلیم سے محروم رکھا کہ کہیں وہ سوچنے نہ لگیں‌۔

قاسمی صاحب کا یہ مضمون اس طرح آگے بڑھتا ہے:

مگر آزادی کی مثال ان چشموں کی سی ہے جو یکایک از خود بڑی بے ساختگی کے ساتھ ویرانوں میں پھوٹ نکلتے ہیں اور سنسان وسعتیں ان کی برکت سے لہلہانے لگتی ہیں۔ آزادی کے یہ چشمے سرزمین افریقہ سے بھی یکایک پھوٹ نکلے۔ وحشی اور حبشی کہے جانے والے افریقہ نے اپنے مشرق اور مغرب کے ساحلوں تک اپنے صوبوں کے استحصالیوں کا پیچھا کیا۔ پھر جب افریقہ کے علاقے پے در پے آزاد ہونے لگے اور افریقہ کی تاریکی دور ہونے لگی تو وہاں کی تہذیب بھی ان کی آزادی کے پرچموں کی طرح ابھری تو دانش وروں کی گمراہ کی ہوئی دنیا یہ دیکھ کر دم بخود رہ گئی کہ ان لوگوں کی تہذیبوں میں تو بڑی توانائی ہے۔ یہ لوگ تو بڑے حوصلہ مند اور استقامت پسند ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے جب یورپ اور امریکہ نے دیکھا کہ افریقی حریت پسندوں کے جوش اور جذبے کا لاوا سیاست کی صورت میں حملہ آور ہونے کو ہے تو انھوں نے محض اشک شوئی کی خاطر افریقی شاعروں کی نظموں کے انتخاب چھاپنے شروع کیے اور یوں اپنی وسیع القلبی کا سکہ جمانا چاہا مگر التزام یہ کیا کہ افریقی شاعروں کا ایسا کام انتھالوجیز میں ممکن حد تک شامل کرنے سے گریز کیا جس میں افریقی شاعر اپنے استحصالیوں سے غضب ناک نفرت کا اظہار کرتا ہے اور سبزہ زاروں میں بکھری ہوئی اپنی کٹیاؤں کو جنت پاروں میں بدلنے کے درپے ہے۔ چنانچہ جب افریقہ آزاد ہوا اور ادھر ادھر سے افریقی شاعروں کا پورا کلام دستیاب ہونے لگا تو اہلِ مغرب کے "انتھالوجی بازوں” کی فراخ دلی کی قلعی کھل گئی اور ثابت ہوا کہ اہلِ افریقہ کی تو اپنی اور سراسر اپنی ایک منفرد تہذیب ہے جس کا ماضی صدیوں پر پھیلا ہوا ہے اور جس کا مستقبل بر اعظموں کی تخصیص تک کو ختم کرسکتا ہے۔

(ماہ نامہ نیرنگِ خیال، راولپنڈی کے ۲۰۰۵ کے ایک سال نامے میں‌ قاسمی صاحب کا یہ مضمون شایع ہوا تھا)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں