بدھ, اپریل 15, 2026
اشتہار

ممتاز شیریں: افسانہ نگاری اور تنقید کی دنیا کا بڑا نام

اشتہار

حیرت انگیز

ممتاز شیریں افسانہ نگار بھی تھیں اور افسانے کی نقاد بھی۔ ان دونوں حیثیتوں سے ان کا شمار ادب کی قد آور شخصیات میں ہوا۔ ان کے تخلیقی تجربے نے تنقید کو جلا بخشی اور اس طرح اردو افسانے کو ایک ایسا نقاد ملا جس کی تنقید بھی تخلیق کا درجہ رکھتی تھی۔ آج اس افسانہ نگار اور نقاد کی برسی ہے۔

12 ستمبر 1924ء کو آندھرا پردیش کے ایک علاقہ ہندو پور میں پیدا ہونے والی ممتاز شیریں کا بچپن ننھیال میں گزرا۔ ان کے نانا میسور میں مقیم تھے، اور اپنی نواسی کو تعلیم و تربیت کی غرض سے اپنے رکھ لیا تھا۔ وہ نہایت ذہین اور قابل طالب علم بھی تھیں۔ گھر کا ماحول علمی و ادبی تھا جس نے انھیں لکھنے لکھانے کی طرف راغب کیا۔ اس بارے میں اپنی آپ بیتی شیریں کتھا میں وہ لکھتی ہیں، "ابا جان میرے لیے ایک دوست تھے۔ وہ آزاد خیال اور وسیع المشرب واقع ہوئے تھے اور ہم پر کسی قسم کی پابندی لگانے کے قائل نہ تھے۔ وہ مجھے پڑھنے لکھنے سے نہیں روکتے تھے۔ کتابیں کہیں سے مانگ تانگ کر چھپ چھپ کر پڑھنے کی مجھے ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ اچھی ادبی کتابیں وہ خود لا دیا کرتے تھے۔ چنانچہ جب میں نو دس کی تھی، وہ میرے لیے مرزا محمد سعید کی کتابیں، شرر اور راشد الخیری کے ناول اور منشی پریم چند کی ساری کتابیں لے آئے تھے۔ اس دور کے معیاری ادبی رسائل بھی منگواتے تھے۔ یوں مجھ میں بچپن ہی سے ادب سے لگاؤ پیدا ہو گیا۔ ابتدائی تعلیم بھی میں نے کسی کانونٹ یا اسکول میں نہیں بلکہ گھر پر ابا جان ہی سے حاصل کی تھی۔ چنانچہ میری ابتدائی ذہنی اور ایک حد تک ادبی تربیت کے ذمہ دار ابا جان ہیں اور میری مذہبی اور اخلاقی تربیت نانا جان کے زیرِ سایہ ہوئی۔ یوں تو ابا جان، امی، نانی اماں اور نانا جان ان سب نے اپنے اپنے طور پر میری پرورش اور تربیت میں حصہ لیا ہے اور ان سب کی متضاد کرداری خصوصیات میری شخصیت میں غیر محسوس طور پر گھلی ہوئی ہیں۔ سب سے غالب اثر میری زندگی پر اور خصوصیت سے ابتدائی نصف زندگی پر نانا جان کا رہا ہے۔”

1942ء میں ممتاز شیریں کی شادی صمد شاہین سے ہوئی جو پاکستان میں اہم سرکاری عہدے پر فائز رہے اور بیرونِ ملک رہ کر بھی ذمہ داریاں‌ نبھائیں۔ ممتاز شیریں نے بھی بطور مشیر وفاقی وزاتِ تعلیم کے لیے خدمات انجام دی تھیں۔ شیریں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز بنگلور سے کیا تھا اور شادی کے بعد انھوں نے ادب کو سنجیدگی سے برتنا شروع کیا۔ مطالعہ کی بنیاد پر بچپن میں ہی لکھنے، پڑھنے کی سن گن ہوگئی تھی اور باضابطہ طور پر 1943ء میں ان کا پہلا افسانہ انگڑائی شاہد احمد دہلوی کے رسالہ ساقی میں شائع ہوا تھا۔ شیریں ان معدودے چند فن کاروں میں سے ہیں جنھیں قلم اٹھاتے ہی شہرت دامن گیر ہوئی۔ ان کے پہلے افسانے نے ہی معروف قلم کاروں کو اپنی جانب متوجہ کرلیا تھا۔ بعد کے برسوں میں‌ ان کی تخلیقی جوہر اور ادبی بصیرت کا اعتراف سبھی نے کیا۔ مطالعے کا نکھرا ستھرا ذوق رکھنے والی ممتاز شیریں کی جستجو رہی تھی کہ ادیبوں شاعروں کے ساتھ ساتھ باذوق قارئین تک ہر زبان کی معیاری کتابیں بھی پہنچیں۔ اس غرض سے انھوں نے کراچی میں کتابوں کا ایک ادارہ بھی قائم کیا تھا۔

شیریں صاحبہ کا اردو زبان اور عالمی ادب کا مطالعہ بہت وسیع تھا جس نے ان کی تنقید کو گہرائی بھی دی اور گیرائی بھی بخشی۔ ممتاز شیریں نے سعادت حسن منٹو کے فن کا مطالعہ بڑی گہری نظر سے کیا اور کئی تنقیدی مضامین لکھے۔ منٹو پر لکھے گئے اور دوسرے تنقیدی مضامین کو پڑھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ممتاز شیریں کی وجہ سے اردو افسانے کی تنقید نصاب کے محدود دائرے سے نکل کر زندگی کی وسعتوں سے آشنا ہوئی۔ اپنے ادبی شعور، تخلیقی حساسیت اور ذہانت سے انھوں نے خوب صورت افسانوں اور معیاری تنقید کے ساتھ جہاں کئی بہترین تراجم سے اردو ادب کا دامن بھرا وہیں مشاہیر، ہم عصر ادیبوں اور احباب کے نام اُن کے خطوط بھی ادبی حیثیت کے حامل ہیں‌۔ ان خطوط سے نہ صرف شیریں کی شخصیت کے مختلف النوع پہلو اُجاگر ہوتے ہیں بلکہ یہ اس عہد کے ادب اور رجحانات کا احاطہ بھی کرتے ہیں۔

11 مارچ 1973ء کو ممتاز شریں اسلام آباد میں انتقال کرگئی تھیں۔ میرزا ادیب ان کے بارے میں لکھتے ہیں: "ممتاز شیریں جس وقت دنیائے ادب میں داخل ہوئیں تو ان کی حیثیت افسانوں کے ایک سخت گیر نقاد کی تھی۔ ان کے مضامین پڑھے تو پتہ چلا کہ خاتون اردو کے افسانے تو رہے ایک طرف انگریزی، روسی اور فرانسیسی افسانوی ادب کا بھی بالاستیعاب مطالعہ کرچکی ہیں۔ ان کا مقالہ” تکنیک کا تنوع” سویرا میں چھپا تو ہر طرف اس کی دھوم مچ گئی۔ یہ مقالہ ایک ایسے ذہن کی پیداوار معلوم ہوتا تھا جس نے برسوں افسانے کی متنوع تکنیک سمجھنے کی کوشش کی اور دنیا کے نام ور افسانہ نگاروں کے مشہور افسانوں کو غور و فکر کی گرفت میں لے چکا ہے۔ یہ مضمون اور ان کے دوسرے مضامین پڑھ کر میں نے ان کے بارے میں ایک خاص تصویر بنالی تھی اس کے بعد ان کے افسانے چھپنے لگے معلوم ہوا کہ وہ جتنی اچھی نقاد ہیں اسی قدر ماہر فن افسانہ نگاری بھی ہیں۔ اپنی افسانوی تحقیقات میں وہ زندگی کی ہر حقیقت کو، وہ کتنی بھی تلخ اور مکروہ کیوں نہ ہو، اس کی پوری جزئیات کے ساتھ پیش کردیتی تھیں۔ جنّتی موضوعات کے سلسلے میں ان کا قلم خاص طور پر بڑا بے باک تھا۔ سعادت حسن منٹو ان کا پسندیدہ افسانہ نگار تھا۔ اس سے بھی ان کے تخلیقی رجحانِ طبع کا اندازہ ہو جاتا ہے۔”

وہ معروف ادبی جریدے نیا دور کی مدیر بھی رہیں اور یوں ادبی صحافت بھی ان کا ایک حوالہ ہے۔ ممتاز شیریں نے عام عورتوں کی طرح زندگی نہیں گزاری اور روایتی سوچ، رسموں رواجوں کی بندش کو خاطر میں‌ نہ لائیں بلکہ اپنے قلم کی نوک سے بڑی بے باکی سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں اپنی نگریا، حدیثِ دیگراں اور میگھ ملہار شامل ہیں جب کہ ان کے تنقیدی مضامین کے مجموعے معیار اور منٹو، نہ نوری نہ ناری کے نام سے شایع ہوئے۔ جان اسٹین بک کے مشہور ناول دی پرل کا اردو ترجمہ ممتاز شیریں نے دُرِشہوار کے نام سے کیا تھا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں