The news is by your side.

Advertisement

کرونا ویکسین لگوانے کے بعد کن تکالیف کا سامنا ہوسکتا ہے؟

پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس وقت کرونا وائرس ویکسی نیشن جاری ہے، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق ملک میں اب تک تقریباً 20 لاکھ افراد کو ویکسین کی کم از کم ایک ڈوز لگ چکی ہے اور 9 لاکھ 64 ہزار سے زائد افراد کو دونوں ڈوزز لگائی جا چکی ہیں۔

اس حوالے ویکسی نیشن کے سائیڈ افیکٹس پر بھی تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ویکسین لگوانے سے کوئی سنگین خطرہ لاحق نہیں۔

کچھ مسائل ایسے ضرور ہیں جو عموماً ہر ویکسین لگوانے کے بعد پیش آتے ہیں، کیونکہ ویکسین لگوانے کے بعد ہمارے جسم میں مدافعت کا نظام کام کرنا شروع ہو جاتا ہے اور اس میں اصل وائرس سے لڑنے کی صلاحیت پیدا ہونے لگتی ہے۔

یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ویکسین لگوانے کے نتیجے میں کون سے سائیڈ افیکٹس ہو سکتے ہیں۔

سوجن

سب سے عام اور بے ضرر سائیڈ افیکٹ ہے کہ جس بازو پر ٹیکا لگوایا جائے اس میں سوجن آ جائے لیکن یہ پریشانی کی بات نہیں۔ سب سے پہلے ویکسین لگواتے ہوئے عملے کو بتائیں کہ آپ کس بازو میں ٹیکا لگوانا چاہتے ہیں۔

اگر آپ اپنے کام دائیں ہاتھ سے کرتے ہیں تو ٹیکا بائیں بازو میں لگوائیں تاکہ سوجن کی صورت میں آپ کے روزمرہ معمولات زیادہ متاثر نہ ہوں۔ اگر زیادہ تکلیف ہو تو سوجن کی جگہ پر برف سے ٹکور کر لیں۔

بخار

ویکسین لگوانے کے بعد سب سے عام سائیڈ افیکٹ بخار ہونا ہے اور یہ دیگر ویکسینز لگوانے پر بھی ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ٹیکا لگواتے ہی جسم میں مدافعت کا نظام تیزی سے کام کرنے لگتا ہے۔

خاص طور پر دوسرا ٹیکا لگوانے کے بعد بخار ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے لیکن ماہرین درد کش ادویات لینے سے منع کرتے ہیں کیونکہ اس سے ویکسین کے کام میں مداخلت ہو سکتی ہے۔ اس لیے زیادہ سے زیادہ آرام کریں اور پانی زیادہ پئیں۔ اگر ٹیکا لگوانے کے بعد 72 گھنٹوں بعد بھی علامات شدید ہوں تو معالج سے رابطہ کریں۔

تھکاوٹ

ویکسین لگوانے کے بعد تھکاوٹ محسوس ہونا بھی عام ہے۔ پہلے ٹیکے کے بعد 8 اور دوسرے ٹیکے کے بعد 14 فیصد افراد تھکاوٹ محسوس ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔

یہ اور دیگر علامات مثلاً سر اور پٹھوں میں درد عموماً خواتین اور 55 سال اور اس سے کم عمر کے افراد میں دیکھی گئی ہیں۔ ڈاکٹر اس صورت میں زیادہ سے زیادہ آرام کا مشورہ دیتے ہیں۔

سر درد

ایک تحقیق کے مطابق فائزر کی بنائی گئی ویکسین کا دوسرا ٹیکا لگوانے کے بعد 13 فیصد افراد نے سر درد کی شکایات کی تھی۔ اس کا حل بھی آسان ہے، آرام کریں اور سر درد کی عام گولی کھا لیں۔

متلی

تقریباً 3.5 فیصد افراد دوسرا ٹیکا لگوانے کے بعد متلی کی شکایت کرتے ہیں جبکہ کچھ کو قے بھی ہو جاتی ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ پانی استعمال کرنے کا وقت ہے، یا پھر جس چیز سے آپ کی متلی رک جاتی ہے، اسے استعمال کریں۔

پٹھوں میں درد

فائزر کی ویکسین لگوانے والے 5 فیصد افراد نے جسم اور پٹھوں میں درد کی شکایت بھی کی ہے۔ اگر تکلیف بہت زیادہ ہو تو سر درد کی طرح اس میں بھی کچھ درد ختم کرنے والی ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں۔

کم ہونے والے سائیڈ افیکٹس

الرجی

ویکسینز کی تیاری کے ابتدائی مراحل میں لگوانے والے کئی افراد نے الرجی کی شکایت کی، لیکن یہ تمام لوگ ایسے تھے جنہیں پہلے ہی الرجی کے مسائل کا سامنا تھا۔ ویکسین لگوانے کے چند ہی منٹوں بعد انہیں الرجی ہونے لگی۔

عام طور پر ادویات سے الرجی ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اگر آپ کو الرجی کا سخت مسئلہ ہو تو آپ کو ٹیکا لگوانے کے بعد 15 سے 20 منٹ تک بٹھایا جاتا ہے تاکہ کسی مسئلے کا اندازہ ہو سکے۔

ویکسین کا پہلا ٹیکا لگوانے کے بعد شدید الرجی کا سامنا کرنے والے لوگوں کو دوسرے ٹیکے سے پہلے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیئے۔

خون جمنا

امریکا نے 13 فروری کو ملک میں جانسن اینڈ جانسن کی ویکسین کا عمل روک دیا تھا کیونکہ ایک خاتون کی رگوں میں خون جمنے کا پتہ چلا تھا، جو مہلک بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد یورپ میں ایسٹرازینیکا ویکسین کی وجہ سے ایسی ہی خبریں سامنے آئیں اور متعدد لوگوں کی ہلاکت کا بھی پتہ چلا۔

یہ پابندیاں بعد میں ہٹا دی گئیں لیکن انتباہ ضرور دیا جا رہا ہے۔ امریکا میں جانسن اینڈ جانسن کی ویکسین لگوانے والے 80 لاکھ افراد میں ایسی شکایات 17 افراد نے کی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کی 50 سال سے کم عمر کی خواتین تھیں۔

دل کا مسئلہ

اسرائیل میں ویکسین لگوانے والے 62 افراد میں دل کی سوزش کے مرض کا پتہ چلا ہے۔ امریکی فوج میں بھی 14 ایسے کیسز سامنے آئے ہیں۔ اب تک ویکسین لگوانے کے بعد اس مرض کی شرح ایک لاکھ میں ایک ہے، جو زیادہ تر 32 سال سے کم عمر مردوں میں دیکھا گیا ہے اور زیادہ تر کو دوسرا ٹیکا لگوانے کے بعد یہ شکایت ہوتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں