واشنگٹن (29 جنوری 2026): نپاہ وائرس جو دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل چکا ہے تاہم اب دو نئے وائرس نے خطرے کی گھنٹے بجا دی ہے۔
دنیا عالمی وبا کورونا کے بعد ابھی نپاہ وائرس سے نمٹنے کی تیاریاں کر رہی ہیں، جو دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل چکا ہے اور عالمی ادارہ صحت سمیت تمام ممالک کی جانب سے بھی الرٹ جاری کیے جا رہے ہیں۔ ایسے میں ماہرین نے مزید دو نئے خطرناک وائرس کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ دو نئے وائرس امریکا میں صحتِ عامہ کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔
اس حوالے سے فلوردیڈا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جان لیڈنکی نے دستیاب تحقیقی مواد کا جائزہ لیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ انفلوئنزا ڈی وائرس اور کتوں میں پایا جانے والا کورونا وائرس انسانوں میں سانس کی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
انفلوئنزا ڈی وائرس جو جانوروں سے پھیلتا ہے اور کتوں میں پایا جانے والا کورونا وائرس حیران کن طور پر اب تک ماہرین کی نظروں سے اوجھل تھے۔
محققین نے ایک نئی رپورٹ میں اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ہی بتایا ہے کہ ان وائرسز سے انسانوں کے بچاؤ اور روک تھام کے لیے اب تک موثر اقدامات نہیں کیے ہیں۔
محققین نے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان وائرسز میں انسان سے انسان میں با آسانی منتقل ہونے کی صلاحیت پیدا ہو گئی تو یہ وباؤں یا عالمی وباؤں کی صورت اختیار کر سکتے ہیں، کیونکہ زیادہ تر لوگوں میں ان کے خلاف قوتِ مدافعت موجود نہیں ہو گی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


