The news is by your side.

پدماوتی تنازع حل ہوتے ہی دپیکا کا دبنگ انداز، تصاویر وائرل

ممبئی: بھارت کی متنازع ترین فلم پدماوت میں رانی کا کردار ادا کرنے والی ڈمپل گرل دپیکا پڈوکون پولیس افسر بن کر سڑکوں پر نکل آئیں، اداکارہ کے نئے انداز کو مداحوں نے خوب سراہا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کی متنازع ترین فلم جس کا نام تبدیل کر کے اب پدماوت رکھ دیا گیا ہے میں رانی پدمنی کا کردار ادا کرنے والی ڈمپل گرل پولیس یونیفارم زیب تن کر کے دبنگ انداز میں ممبئی کی گلیوں میں نکل آئیں۔

واضح رہے کہ راجپوت برادری کے انتہاء پسندوں نے فلم پدماوت کی تشہیر کو روکنے کے لیے عدالت اور سینسر بورڈ میں درخواست دائر کی تھی ساتھ ہی انہوں نے فلم ڈائریکٹر سنجے لیلا بھنسالی  کے سر کی قیمت اور اداکاروں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔

مزید پڑھیں: پدماوت کا ٹریلر جاری، فلم کے انتباہ نے تنازعے کی وجہ بتادی

بھارت کے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن نے ’پدماوتی‘ کا نام تبدیل کرکے ’پدماوت‘ رکھنے کا حکم جاری کیا اور ساتھ ہی فلم کے کچھ مناظر کو حذف کیے جانے کے بعد یو اے سرٹیفیکٹ سے بھی کلیئر قرار دیا اور اسے 25 جنوری کو ریلیز کرنے کی مشروط اجازت بھی دی مگر ساتھ میں یہ بھی پابندی عائد کی کہ کچھ ریاستوں میں فلم ریلیز کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

خیال رہے کہ فلم پدوماتی کو ریلیز سے پہلے ہی راجپوت برادری کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا رہا جس کے باعث بھارت کی کئی ریاستوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور کئی راجپوت رہنماؤں نے فلمساز اور ہیروئن دپیکا کے خلاف انتقامی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے دپیکا کی ناک کاٹنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد فلم کی ریلیز روک دی گئی تھی ۔

یہ بھی پڑھیں: پدماوتی کی ریلیز سے قبل ایک شخص موت کی بھینٹ‌ چڑ گیا

متنازع فلم کو بھارتی سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکشن کی جانب سے اجازت ملنے کے دو روز بعد ہی دپیکا پڈوکون پولیس کی وردی زیب تن کیے دبنگ انداز میں سڑک پر نکلیں اور موبائل پر بیٹھ کر اپنا تصاویر بھی بنوائیں۔

اداکارہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو کچھ صارفین نے اسے دپیکا کی جانب سے انتہاء پسندوں کو قرارا جواب کرار دے رہے تھے کہ حقیقت سامنے آگئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دپیکا ایک اشتہار کے لیے کام کررہی ہیں جس میں وہ پولیس افسر کا کردار ادا کریں گی، حقیقت سامنے آنے کے بعد مداحوں نے اپنی پسندیدہ اداکارہ کے انداز کو خوب سراہا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں