سات مسلم ممالک پر پابندی، یو اے ای نے بھی ٹرمپ کی حمایت کردی UAE support Trump
The news is by your side.

Advertisement

سات مسلم ممالک پر پابندی، یو اے ای نے بھی ٹرمپ کی حمایت کردی

ابوظہبی: سعودی عرب کے بعد اب متحدہ عرب امارات نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 7 مسلم ممالک کے شہریوں پر عائد پابندی کو درست قرار دے دیا، وزیر خارجہ یو اے ای نے کہا ہے کہ ٹرمپ کا یہ اقدام اسلام مخالف نہیں۔

یہ بات انہوں نے ابوظہبی میں بدھ کو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف اور عرب لیگ کے سیکریٹری احمد ابو الغیث کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی( ایسوسی ایٹڈ فرانس پریس) کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 7 مسلم ممالک کے شہریوں پر عائد پابندیاں اسلام مخالف نہیں ہیں۔

شیخ عبداللہ بن زید کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اقدام کو غلط سمجھا گیا کہ نئی امریکی انتظامیہ کا فیصلہ براہ راست کسی مخصوص مذہب کے خلاف نہیں ہے ، امریکا کا یہ فیصلہ اس کی خود مختاری پر مبنی ہے، ٹرمپ انتظامیہ کا یہ اقدام مخصوص ممالک کے خلاف ہے جو کہ مسلم ممالک کی اکثریت پر لاگو نہیں ہوتا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی طرح متحدہ عرب امارات کے بھی امریکا سے تعلقات کافی بہتر ہیں۔

واضح رہے کہ جمعہ کو ڈونلڈ ٹرمپ نے متنازع ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ،سوڈان، شام اور یمن کے شہریوں کا امریکا میں داخلہ تین ماہ کے لیے ممنوع قرار دے دیا ہے اور عندیہ دیا ہے کہ اس پابندی میں توسیع کرتے ہوئے مزید ممالک کو ایگزیکٹو آرڈر کی زد میں لایا جاسکتا ہے۔

سات مسلم ممالک کو اسلامی شدت پسند کا گڑھ قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کرنے کے عمل کو امریکا سمیت دنیا بھر میں آڑے ہاتھوں لیا جارہا ہے، مِختلف ممالک کی جانب سے امریکا کے خلاف احتجاج جاری ہیں، خود امریکی عوام بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہے۔

امریکی ناقدین کا کہنا ہے کہ سال 2011 میں نائن الیون کے واقعے میں 19 ہائی جیکرز ملوث تھے جس میں سے 15کا تعلق سعودی عرب تھا،اس حملے کے ماسٹر مائنڈ اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کا تعلق سعودی عرب سے تھا، جب کہ بقیہ چار ہائی جیکرز میں سے ایک مصری، دو متحدہ عرب امارات اور ایک کا تعلق لبنان سے تھا لیکن ٹرمپ نے ان ممالک کے شہریوں پر پابندی عائد کیوں نہیں کی؟

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں