The news is by your side.

Advertisement

سائنس دان مرنے کے بعد میراث میں کروناوائرس کی ویکسین چھوڑ گیا

کارڈف: برطانوی ملک ویلز میں ایک ایسے سائنس دان کی 2014 میں موت ہوئی جس نے کروناوائرس کے خاتمے کے لیے ویکسین تیار کی تھی، مذکورہ ویکسین استعمال میں لائی جاسکتی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سائنس دان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ایرک وورک نامی سائنس دان کی موت 84 سال کی عمر میں ہوئی لیکن انہوں  نے H5NI جیسے مہلک مرض سے لڑنے کے لیے ویکسین تیار کی تھی جو ممکنہ طور پر کروناوائرس کے خاتمے کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہے۔

سائنس دان کی بیٹی جین کا کہنا ہے کہ والد نے اپنی ریٹائرمنٹ کے وقت H5NI(نزلے کا مہلک مرض) سے متعلق خصوصی ویکسین تیار کی تھی اور اس اہم کارنامے کے بعد ہی ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔

کروناوائرس کا خطرہ: اٹلی میں نیاقانون نافذ

انہوں نے بتایا کہ میرے والد نے ویکسین تیار کرنے کے بعد ریسرچ پیر ’’پیئر ریویڈ جنرل‘‘ میں جمع بھی کرایا تھا، متعلقہ ادارے اگر تحقیق کو مدنظر رکھتے ہوئے مذکورہ ویکسین کو کروناوائرس کے لیے استعمال کریں تو یقینی طور پر مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ سائنس دان نے مرنے سے پہلے اہم میراث چھوڑی ہے۔

بیٹی کا مزید کہنا تھا کہ وہ اور اس کے گھر والے سائنس دان یا طبی ماہرین نہیں ہیں اس لیے ویکسین کو استعمال کرنے سے متعلق بھی نہیں جانتے، وہ ادارے جو کروناوائرس کی ویکسین تیار کررہے ہیں اگر اس پر توجہ دیں تو بہتر نتیجہ سامنے آئے گا اور علاج بھی دریافت ہوسکتی ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں